اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 199

اصحاب بدر جلد 5 199 پکڑے مدینہ کی طرف جاتی ہوئی ملی۔میں نے اس سے پوچھا میدانِ جنگ کی کیا خبر ہے ؟ اس نے جواب دیا الحمد للہ سب خیریت ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی علیہ کی خیریت سے ہیں۔اتنے میں میری نظر اونٹ پر پڑی جس پر کچھ لدا ہوا تھا۔میں نے پوچھا یہ اونٹ پر کیا لد ا ہوا ہے ؟ کہنے لگی میرے خاوند عمرو بن جموح کی نعش ہے، میرے بھائی عبد اللہ بن عمرو کی نعش ہے، میرے بیٹے خلاد کی نعش ہے۔یہ کہہ کر وہ مدینہ کی طرف جانے لگی مگر اونٹ بیٹھ گیا اور کسی طرح اٹھنے میں نہ آتا تھا۔آخر جب وہ اٹھا تو مدینہ کی طرف جانے سے انکار کر دیا تب اس نے یعنی اس خاتون نے اس کی مہار پھر اُحد کے میدان کی طرف موڑ دی تو وہ خوشی خوشی چلنے لگا۔پھر لکھتے ہیں کہ ادھر تو عورت کا یہ ماجرا گزر رہا تھا کہ آنحضرت صلی ایم کے عشق و محبت کی یہ داستان تھی اور ادھر آنحضور صلی ام صحابہ سے یہ فرما رہے تھے کہ جاؤ عمر و بن جموح اور عبد اللہ بن عمرو کی نعشیں تلاش کرو کہ انہیں اکٹھا دفن کیا جائے گا کیونکہ وہ اس دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔آنحضرت مالی اسلم کو بھی ان دونوں کا بڑا خیال تھا۔ایک روایت میں مذکور ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن عمرو نے غزوہ اُحد کے لیے نکلنے کا ارادہ کیا تو اپنے بیٹے حضرت جابر کو بلایا اور ان سے کہا اے میرے بیٹے ! میں دیکھتا ہوں کہ میں اولین شہداء میں سے ہوں گا اور اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے رسول اللہ صلی ال نیم کی ذات کے بعد تمہارے علاوہ کسی کو نہیں چھوڑ کے جارہا جو مجھے زیادہ عزیز ہو۔میرے ذمہ کچھ قرض ہے میر اوہ قرض میری طرف سے ادا کر دینا اور میں تمہیں تمہاری بہنوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کر تاہوں۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ اگلی صبح میرے والد صاحب سب سے پہلے شہید ہوئے 446 اور دشمنوں نے ان کی ناک اور کان کاٹ ڈالے تھے۔447 ان کو ان کے زخموں سمیت ہی کفن دے دو ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علی سلیم احد کے شہداء کو دفن کرنے کے لیے تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ان کو ان کے زخموں سمیت ہی کفن دے دو کیونکہ میں ان پر یر گواه ہوں اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ کی راہ میں زخمی کیا جائے مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا خون بہ رہا ہو گا اور اس کارنگ زعفران کا ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی۔یعنی کہ یہ پسندیدہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔انہیں نہلانے اور کفنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔انہی کالباس ان کا کفن ہے۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ میرے والد کو ایک چادر کا کفن دیا گیا اور آپ صلی علیہ کم فرمارہے تھے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن جانے والا ہے ؟ جب یہ شہداء دفن کیے جارہے تھے تو آنحضرت صلی للی یکم فرماتے تھے کہ کون زیادہ قرآن جاننے والا ہے ؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ فرماتے کہ اس کو قبر میں اس کے ساتھیوں سے پہلے اتارو یعنی جو قرآن جاننے والے لوگ تھے ان کو آپ پہلے دفن