اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 182
اصحاب بدر جلد 5 182 سب سے زیادہ مالدار ہوں۔انہوں نے جواب دیا بیٹا خرچ کرو یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو تو کوئی ہلاکت کا سوال نہیں۔کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی علیہم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی کے بعد وہ دوبارہ مجھے کبھی نہیں دیکھ سکیں گے یعنی بعض لوگ ایسے ہوں گے کہ اس مقام پر نہیں پہنچ سکیں گے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمرؓ سے ملاقات ہو گئی۔انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی تو حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور کہا کہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتائیے کہ کیا میں ان میں سے ہوں؟ یہ جو آپ نے بتایا تھا کہ آنحضرت صلی ا کرم نے فرمایا کہ مجھ سے نہیں ملیں گے۔جو آنحضرت علی ایم کو دوبارہ نہیں دیکھ سکیں گے میں ان میں سے ہوں ؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا نہیں حضرت عمر کو فرمایا کہ نہیں آپ ان میں سے نہیں ہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ ہم کو دیکھ سکیں گے یا نہیں۔400 المرسال یعنی کسی کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ آپ کو ضرور دیکھیں گے لیکن یہ بھی واضح ہو جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف تو ان لوگوں میں سے ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے جن کو جنت کی بشارت بھی آنحضرت صلی اللہ ہم نے دی تھی لیکن پھر بھی ان لوگوں میں خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت اتنی تھی کہ ہر وقت فکر میں رہتے تھے اور حضرت ام سلمہ کی یہ بات سن کے بھی آپ نے فوراً بہت زیادہ صدقہ و خیرات کی۔طاعون عمواس اور حضرت عمر کی مشاورت ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام کی طرف نکلے یہاں تک کہ وہ سرغ مقام پر پہنچے۔سنی غ جو ہے وہ شام اور حجاز کے سرحدی علاقے میں واقع وادی تبوک کی ایک بستی کا نام ہے جو مدینے سے تیرہ راتوں کی مسافت پر ہے۔یعنی اس وقت جو سواریوں کا انتظام تھا ان کے ساتھ تیرہ راتیں مسلسل چلتے رہیں تو اس کی اتنی مسافت تھی۔وہاں پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے کمانڈر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔یہ واقعہ اٹھارہ ہجری میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں شام کی فتوحات کے بعد کا ہے۔ان لوگوں نے حضرت عمر کو بتایا کہ شام کے ملک میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہا کہ میرے پاس مشورے کے لیے اولین مہاجرین کو بلاؤ۔شروع کے جو مہاجرین ہیں ان کو بلاؤ۔وہ کیا مشورہ دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے ان سے مشورہ کیا مگر مہاجرین میں اختلاف رائے ہو گئی۔بعض کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے یعنی سفر جاری رکھنا چاہیے جبکہ بعض نے کہا کہ اس لشکر میں رسول اللہ صلی الم کے صحابہ کرام شامل ہیں اور ان کو اس وبا میں ڈالنا مناسب نہیں۔بہتر یہ ہے کہ واپس چلا جائے۔حضرت عمرؓ نے مہاجرین کو بھجوا دیا اور پھر انصار کو مشورے کے لیے بلایا۔ان سے مشورہ لیا مگر