اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 179

اصحاب بدر جلد 5 179 ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا عبد الرحمن خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں کہ اللہ ! مجھے نفس کے بخل سے بچائیو۔390 امیر الحجاج مقرر ہونا حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ جس سال حضرت عمر خلیفہ منتخب ہوئے اس سال آپ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو امیر حج مقرر کیا تھا۔391 ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رسول اللہ صلی علیکم کے پاس جوؤں کی کثرت کی شکایت لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت فرمائیں گے کہ میں ریشمی لباس پہن لوں۔اس وقت کسی وجہ سے جو میں پیدا ہو گئیں۔سر میں شاید پیدا ہو گئی ہوں گی۔عام جو سادہ کاٹن کا لباس ہے اس میں ختم نہیں ہو رہی تھیں تو اس وقت آپ نے اجازت لی کہ ریشمی لباس پہن لوں۔اس سے ذرا بچت ہو جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے ان کو اجازت عطا فرما دی کہ ٹھیک ہے پہن لیا کرو۔جب آنحضرت صلی یم اور حضرت ابو بکر وفات پاگئے اور حضرت عمر خلافت پر متمکن ہوئے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف اپنے بیٹے ابو سلمہ کے ساتھ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ابو سلمہ نے ریشمی قمیض پہن رکھی تھی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ کیا پہن رکھا ہے؟ پھر انہوں نے یعنی حضرت عمرؓ نے ابو سلمہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر قمیض پھاڑ دی۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عمرؓ سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے اجازت عنایت فرمائی تھی۔تو حضرت عمر نے فرمایا آنحضرت صلی ا ہم نے آپ کو اس لیے اجازت عطا فرمائی تھی کہ آپ نے ان کے حضور جوؤں کی شکایت کی تھی۔یہ اجازت آپ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔392 سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ایک چادر پہنا کرتے تھے یا کسی وقت ایک چادر پہنی ہوئی تھی جس کی قیمت چار یا پانچ سو درہم تھی۔393 یعنی ایسے حالات تھے کہ انتہائی قیمتی لباس بھی پہنتے تھے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل دیکھیں کہ جب ہجرت کی تو کچھ بھی پاس نہیں تھا لیکن اس کے بعد قیمتی ترین لباس بھی پہنا اور بے شمار جائیداد بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پیدا کر دی۔حضرت ابو بکر ضیا عبد الرحمن بن عوف سے مشورہ کرنا حضرت ابو بکر نے اپنے مرض الموت کے وقت حضرت عمر کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔جب آپ نے اس کا ارادہ کیا تھا اس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بلایا اور ان سے کہا کہ بتاؤ عمرؓ کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا اے خلیفہ کر سول !وہ آوروں کی بنسبت آپ کی رائے سے بھی افضل ہیں مگر ان کے مزاج میں ذراشرت ہے۔حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ یہ شدت