اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 178

اصحاب بدر جلد 5 178 شام فتح کرے گا تو تمہارے لیے فلاں حصہ زمین ہو گا۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں جب ملک شام میں اسلام کو فتوحات ملیں تو حضرت عبد الرحمن بن عوف کو ان کی زمین دی گئی۔اس علاقے کا نام سلیل تھا جہاں انہیں زمین دینے کا وعدہ دیا گیا تھا۔7 ایک بہت بڑا اعزاز اور سعادت 387 الله حضرت عبد الرحمن بن عوف کو یہ سعادت بھی ملی کہ آنحضرت علی ایم نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔چنانچہ حضرت مغیرہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی تعلیم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے۔حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال یا قضائے حاجت کے لیے فجر کی نماز سے پہلے تشریف لے گئے۔میں نے آپ کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اٹھایا۔جب رسول اللہ صلی علیکم میری طرف واپس آئے جہاں میں فاصلے پر کھڑا تھا تو میں مشکیزے سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا اور آپ نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے۔پھر آپ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔پھر آپ اپنے بازوؤں کو اپنے جسے سے باہر نکالنے لگے لیکن جبہ کی آستینیں تنگ تھیں اس لیے اپنے ہاتھ جبے کے اندر داخل کیے اور اپنے بازوؤں کو جے کے نیچے سے نکال کر کہنیوں تک دھوئے۔پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کر کے ان کو صاف کیا۔پھر آگے چل پڑے۔مغیرہ کہتے ہیں میں بھی آپ کے ساتھ آگے چلا یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو پایا کہ وہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کو آگے کر چکے تھے اور وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے۔تو رسول اللہ صلی علیکم نے دو میں سے ایک رکعت پائی یعنی اس وقت تک فجر کی نماز کی ایک رکعت ہو چکی تھی۔دوسری رکعت تھی صف میں کھڑے ہو گئے اور آپ نے دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ پڑھی۔جب عبد الرحمن بن عوف نے سلام پھیرا اور رسول اللہ صلی علی یکم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔دوسری رکعت جو رہ گئی تھی پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس بات نے مسلمانوں میں گھبراہٹ پید ا کر دی اور بکثرت تسبیح کرنے لگے۔جب نبی صلی علیم نے اپنی نماز ختم کر لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم نے ٹھیک کیا یا یہ کہا کہ اچھا کیا۔آپ صلی علیہم نے نماز اپنے وقت پر ادا کرنے کی وجہ سے ان پر رشک کا اظہار کیا کہ بہت اچھا کیا۔حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ جب ہم پہنچے تھے تو اس وقت میں نے ارادہ کیا تھا کہ حضرت عبد الرحمن کو پیچھے کر دوں مگر نبی کریم صلی الی ایم نے فرما یار ہنے دو۔ان کو نماز پڑھانے دو۔نماز کے بعد حضور صلی الم نے فرمایا کہ ہر نبی اپنی زندگی میں امت کے کسی نیک آدمی کے پیچھے نماز ضرور پڑھتا ہے۔388 ایک اور بڑا اعزاز آنحضرت صلی ا ہم نے آپ کو بخشا۔نہ صرف یہ کہا کہ بڑا اچھا ہے، نماز پڑھائی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ نبی کا، میر ا تمہارے پیچھے نماز پڑھنا اس بات کی بھی تصدیق ہے کہ تم نیک آدمی ہو۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ظہر سے پہلے لمبی نماز پڑھا کرتے تھے یعنی نفل پڑھا کرتے تھے۔جب اذان سنتے تو فوراًنماز کے لیے تشریف لے آتے۔89