اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 2
اصحاب بدر جلد 5 2 جنگ احد میں رسول اللہ صلی ال کم کی بہادری سے حفاظت کرنے والے حضرت شماس بن عثمان غزوہ بدر اور اُحد میں شامل ہوئے۔آپ غزوہ اُحد میں بہت جانفشانی سے لڑے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ میں نے شماس بن عثمان کو ڈھال کی مانند پایا ہے۔رسول اللہ صلی الیکم دائیں یا بائیں جس طرف بھی نظر اٹھاتے شماس کو وہیں پاتے جو جنگ اُحد میں اپنی تلوار سے مدافعت کر رہے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی علی کم پر غشی طاری ہو گئی جب آپ پر حملہ ہوا اور پتھر آکے لگا۔حضرت شماس نے اپنے آپ کو آپ صلی میں کم کے سامنے ڈھال بنا لیا تھا یہاں تک کہ آپ شدید زخمی ہو گئے اور آپ کو اسی حالت میں مدینہ اٹھا کر لایا گیا۔آپ میں ابھی کچھ جان باقی تھی۔آپ کو حضرت عائشہ کے ہاں لے جایا گیا۔حضرت اُم سلمہ نے کہا کہ کیا میرے چچازاد بھائی کو میرے سوا کسی اور کے ہاں لے جایا جائے گا؟ آپ صلی تعلیم نے فرمایا کہ انہیں حضرت ام سلمہ کے پاس اٹھا کر لے جاؤ۔پس آپ کو وہیں لے جایا گیا اور آپ نے انہی کے گھر وفات پائی۔وہاں اُحد سے زخمی ہو کے آئے تھے۔پھر آپ صلی علیکم کے حکم سے حضرت شماس کو مقام اُحد میں لے جا کر انہی کپڑوں میں دفن کیا گیا۔جب جنگ کے بعد آپ کو زخمی حالت میں اٹھا کر مدینہ لایا گیا تھا تو وہاں ایک دن اور ایک رات تک زندہ رہے تھے اور اس دوران کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں، انتہائی کمزوری کی حالت تھی بلکہ بیہوشی کی حالت تھی۔حضرت شماس کی وفات 34 سال کی عمر میں ہوئی۔4 آنحضرت علی الم سے مثالی محبت حضرت شماس بن عثمان کے بارے میں تاریخ نے ایسا واقعہ محفوظ کیا ہے جو ان کی آنحضرت صلی اللہ سے محبت کی ایک مثال بن گیا اور اسلام کی خاطر قربانی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کرنے کی بھی مثال ہے۔جنگ احد میں جہاں حضرت طلحہ کی عشق و محبت کی داستان کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنا ہاتھ آنحضرت صلی علیہم کے چہرہ مبارک کے سامنے رکھا کہ کوئی تیر آپ کو نہ لگے وہاں حضرت شماس نے بھی بڑا عظیم کردار ادا کیا ہے۔حضرت شماس آنحضرت صلی علیکم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ہر حملہ اپنے اوپر لیا۔آنحضرت صلی الم نے حضرت شماس کے بارے میں فرمایا کہ شماس کو اگر میں کسی چیز سے تشبیہ دوں تو ڈھال سے تشبیہ دوں گا کہ وہ احد کے میدان میں میرے لئے ایک ڈھال ہی تو بن گیا تھا۔وہ میرے آگے پیچھے دائیں اور بائیں حفاظت کرتے ہوئے آخر دم تک لڑتا رہا۔آنحضرت صلی یہ یکم جس طرف نظر ڈالتے آپ فرماتے ہیں شماس انتہائی بہادری سے وہاں مجھے لڑتے ہوئے نظر آتا۔جب دشمن آنحضرت صلی ا یم پر حملے میں کامیاب ہو گیا اور آپ کو غشی کی کیفیت طاری ہوئی۔آپ گر گئے۔تب بھی شماس ہی ڈھال بن کر آگے کھڑے رہے یہاں تک کہ خود شدید زخمی ہو گئے۔اسی حالت میں انہیں مدینہ لایا گیا۔حضرت ام سلمہ نے کہا کہ یہ میرے چچا کے بیٹے ہیں میں ان کی قریبی ہوں ، رشتہ دار ہوں اس لئے میرے گھر میں ان کی تیمار داری اور علاج وغیرہ ہونا چاہئے۔لیکن زخموں کی شدت کی وجہ سے ڈیڑھ دو