اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 159

اصحاب بدر جلد 5 159 نے اس پر عرض کیا کہ مجھے اپنے والدین کے پاس جانے دیں۔آپ نے مجھے اجازت دے دی۔میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا بیٹی اس بات سے اپنی جان کو جنجال میں نہ ڈالو۔اطمینان سے رہو۔لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔میں نے کہا سبحان اللہ !لوگ ایسی بات کا چرچا کر رہے ہیں۔کہتی تھیں کہ جب مجھے یہ پتا لگا کہ میرے پہ یہ تہمت لگی ہے تو میں نے وہ رات اس طرح کائی کہ صبح تک نہ میرے آنسو تھے اور نہ مجھے نیند آئی۔بہر حال اس تہمت کی باتیں ہوتی رہیں بعض صحابہ سے بھی آنحضرت صلی ٹیم نے مشورہ کیا اور کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی الیم نے بریرہ کو جو ذاتی خدمت کے لیے حضرت عائشہ کی خادمہ تھیں ان کو بلایا اور آپ نے کہا کہ بریرہ کیا تم نے اس میں یعنی حضرت عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شبہ میں ڈالے ؟ بریرہ نے کہا کہ ہر گز نہیں۔کوئی ایسی بات میں نے نہیں دیکھی اور کہنے لگی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے حضرت عائشہ میں اس سے زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لیے معیوب سمجھوں یعنی سب سے بڑی کمزوری جو میں نے دیکھی ہے وہ یہی ہے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں۔لڑکپن ہے اور نیند زیادہ آتی ہے اور آٹا چھوڑ کر بعض دفعہ سو جاتی ہیں اور گھر میں بکری آتی ہے اور وہ کھا جاتی ہے یعنی کہ بس بے احتیاطی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں یا ان کو نیند زیادہ آتی ہے۔ایسے شخص کو کون سنبھالے جس نے میری بیوی کے بارے مجھے دکھ دیا ہے یہ سن کر اسی دن رسول اللہ صلی علیم نے صحابہ کو مخاطب فرمایا اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کی شکایت کی اور رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا ایسے شخص کو کون سنبھالے جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے دکھ دیا ہے۔اور آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اپنی بیوی میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات مجھے معلوم نہیں اور ان لوگوں نے جس پر الزام لگایا تھا اس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی بابت بھی مجھے بھلائی کے سوا کوئی علم نہیں اور میرے گھر والوں کے پاس جب بھی وہ آیا کرتے ہیں تو میرے ساتھ ہی آتے تھے کبھی اکیلے نہیں آئے۔اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقعہ بری ہوں بہر حال مختصر یہ کہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ کریم نے مجھ سے بھی براہِ راست اس بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ بخدا مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی ہے جس کا لوگ آپس میں تذکرہ کرتے ہیں۔باتیں کر رہے ہیں۔مجھ پر الزام لگارہے ہیں۔اگر میں آپ ، یہ کہوں کہ میں بری ہوں میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقعہ بری ہوں۔آپ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپ کے پاس کسی بات کا اقرار کر لوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں بڑی ہوں۔میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی مگر آپ اس اقرار میں مجھے سچا سمجھ لیں گے کیونکہ لوگوں میں یہ اتنا مشہور ہو چکا ہے۔ہر ایک قائل ہو چکا ہے۔بعض صحابہ جو ہیں وہ بھی ایسی باتیں