اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 151

151 اصحاب بدر جلد 5 اور فرمایا کہ آج رات کو میں نے خواب میں ایک گائے دیکھی ہے نیز میں نے دیکھا کہ میری تلوار کاسر ٹوٹ گیا ہے اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ گائے ذبح کی جارہی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط زرہ کے اندر ڈالا ہے۔اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مینڈھا ہے جس کی پیٹھ پر میں سوار ہوں۔صحابہ نے دریافت کیا یارسول اللہ صلی الیم آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی ہے ؟ آپ صلی نیلم نے فرمایا کہ گائے کے ذبح ہونے سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے بعض کا شہید ہونا مراد ہے اور میری تلوار کے کنارے کے ٹوٹنے سے میرے عزیزوں میں سے کسی کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے یا شاید خود مجھے اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حملے کے مقابلے کے لیے ہمارا مدینے کے اندر ٹھہر نا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی آپ نے یہ تاویل فرمائی کہ اس سے کفار کے لشکر کا سردار یعنی علم بردار مراد ہے، جھنڈا اٹھانے والا جو ان شاء اللہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔اس کے بعد آپ صلی امیریم نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا کہ موجودہ صورت میں کیا کرنا چاہیے۔بعض بڑے صحابہ نے حالات کے اونچ پنچ کی وجہ سے اور سوچ کر اور شاید کسی قدر آنحضرت صلی ایم کی خواب سے متاثر ہو کر یہ رائے دی کہ مدینے میں ہی ٹھہر کر مقابلہ کرنا مناسب ہے۔یہی رائے عبد اللہ بن أبي بن سلول جو رئیس المنافقین تھا اس نے بھی دی اور آنحضرت صلی علیم نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا اور کہا کہ بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم مدینے کے اندر رہ کر مقابلہ کریں لیکن اکثر صحابہ نے اور خصوصاً ان نوجوانوں نے جو بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے اور اپنی شہادت سے خدمتِ دین کا موقع حاصل کرنا چاہتے تھے اور بڑے بے تاب ہو رہے تھے اس کے لیے بڑے اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ شہر سے باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ان لوگوں نے اس قدر اصرار کیا اور اپنی رائے کو پیش کیا کہ آنحضرت صلی ای ایم نے ان کے جوش کو دیکھ کر ان کی بات مان لی اور فیصلہ فرمایا کہ ہم کھلے میدان میں نکل کر کفار کا مقابلہ کریں گے اور پھر جمعہ کی نماز کے بعد آپ نے مسلمانوں میں عام تحریک فرمائی کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے اس غزوے میں شامل ہو کر ثواب حاصل کریں۔خدا کے نبی کی شان نہیں ہے کہ ہتھیار لگائے اور پھر انہیں اتار دے اس کے بعد آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے ، گھر چلے گئے جہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی مدد سے آپ نے عمامہ باندھا اور جنگی لباس پہنا اور پھر ہتھیار لگا کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے باہر تشریف لے آئے لیکن اتنے عرصے میں حضرت سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس اور دوسرے اکابر صحابہ کے سمجھانے سے نوجوان لوگوں کو اپنی غلطی محسوس ہونے لگی کہ رسول اللہ صلی ال کلم کی رائے کے مقابلے