اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 150
اصحاب بدر جلد 5 150 کیا اور نبی صلی یہ کم اور آپ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا در گزر کیا کرتے تھے اور ان کی ایذاد ہی پر، تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے۔اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ : وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ( آل عمران: 187) اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا کہ : وَذَكَثِيرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كفَارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمُ (البتر :110) اہل کتاب میں سے بہت سے ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کاش تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد ایک دفعہ پھر کفار بنادیں بوجہ اُس حسد کے جو ان کے اپنے دلوں سے پیدا ہوتا ہے۔پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم کو نازل فرمائے انہیں معاف کرو اور ان سے در گزر کر و اور اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا پورا قادر ہے۔اور نبی کریم صلی یکم عفو کو ہی مناسب سمجھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت دے دی۔بدر کی فتح اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کا اسلام قبول کرنا جب رسول اللہ صلی اللہ کریم نے بدر کے مقام پر اُن کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی میں کفار قریش کے بڑے بڑے سر گرم مار ڈالے تو عبد اللہ بن اُبی بن سلول اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست تھے کہنے لگے اب تو یہ سلسلہ شان دار ہو گیا ہے۔انہوں نے رسول اللہ صلی علیم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کر لی اور مسلمان ہو گئے۔331 اسلام بھی ان کا اسی طرح تھا کہ جب دیکھا کہ جنگ بدر میں کامیاب ہو گئے ہیں تو خوف پید اہو ا اور اسلام لے آئے۔تو بہر حال یہ روایتیں جیسا کہ میں نے کہا ان کا براہِ راست تعلق نہیں بھی ہے تو بیان کرتاہوں تاکہ اس حوالے سے تاریخ کا بھی پتا لگتا چلا جائے۔غزوہ احد کی تیاری اور نبی اکرم صلی اللہ کا اصحاب سے مشورہ پھر اس عبد اللہ بن ابی بن سلول کے کردار کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بیان کی ہے۔غزوہ احد کے موقعے پر رسول اللہ صلی ا یکی نے مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے قریش کے اس حملے کے متعلق مشورہ مانگا کہ آیا مدینے میں ہی ٹھہر ا جاوے یا باہر نکل کر مقابلہ کیا جاوے۔اس مشورے پر عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی شریک تھا جو دراصل تو منافق تھا مگر بدر کے بعد بظاہر مسلمان ہو چکا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ آنحضرت صلی ایم نے اسے مشورے میں شرکت کی دعوت دی۔نبی اکرم صلی الم کا خواب مشورے سے قبل آنحضرت صلی اہل علم نے قریش کے حملے اور ان کے خونی ارادوں کا ذکر فرمایا