اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 117

اصحاب بدر جلد 5 117 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس بات پر میری بیعت کرو گے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جو آپ کے دل میں ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میرے دل میں کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا فتح یا شہادت۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابو سنان نے بیعت کی۔اس کے بعد لوگ آتے اور کہتے کہ حضرت ابوسنان والی بیعت پر ہم بھی بیعت کرتے ہیں اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔نمبر چھ : اور جنگ بدر کے دن سات مہاجرین تمہاری قوم کے تھے اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔63 پھر ایک روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جحش جب اُحد کے دن شہید ہوئے تو حضرت زینب بنت خزیمہ آپ کے نکاح میں تھیں۔ان کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت خزیمہ سے شادی کر لی۔آپؐ آٹھ ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو تین ماہ رہیں اور ماہ ربیع الآخر کے آخر میں آپ کی وفات ہو گئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا جنازہ پڑھا اور جنت البقیع میں دفن کیا۔264 196 نام و نسب و کنیت حضرت عبد اللہ بن جد حضرت عبد اللہ بن جد۔ان کے والد کا نام جد بن قیس تھا۔ان کی کنیت ابو وہب تھی۔ان کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا جو انصار کا ایک قبیلہ تھا۔حضرت معاذ بن جبل والدہ کی طرف سے آپ کے بھائی تھے۔حضرت عبد اللہ بن جد غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے۔5 265 بہادر اور غیرت مند بیٹا غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی علی ایم نے حضرت عبد اللہ بن جڑ کے والد ابو وہب سے کہا کہ ابو وہب کیا تم اس سال ہمارے ساتھ جنگ کے لئے نکلو گے ؟ ابو وہب نے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیں اور فتنہ میں مبتلا نہ کریں۔میں نہیں جاسکتا۔آنحضرت صلی علیہ نام کے سامنے جو اس نے بہانہ کیا، عجیب بہانہ ہے کہ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بہت دلدادہ ہوں۔اگر میں بنو ا صفر یعنی رومیوں کی عورتوں کو دیکھوں گا تو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکوں گا۔رسول اللہ صلی سلیم نے اس سے اعراض کرتے ہوئے