اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 114

اصحاب بدر جلد 5 114 قافلہ بھی آن پہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں۔مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لیے بھیجا تھا لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہو چکی تھی اور اب دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے اور پھر طبعاً یہ اندیشہ بھی تھا کہ اب جو قریش کے ان قافلہ والوں نے مسلمانوں کو دیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی کا راز بھی مخفی نہ رہ سکے گا۔ایک وقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہر حرام کا آخری ہے جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہیے اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزر چکا ہے اور شعبان شروع ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ سر یہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جُمادَی کا ہے یار جب کا۔لیکن دوسری طرف نخلہ کی وادی عین حرم کے علاقہ کی حد پر واقع تھی اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کو یہ قافلہ حرم کے علاقہ میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہو گی۔غرض ان سب باتوں کو سوچ کر مسلمانوں نے آخر یہی فیصلہ کیا کہ قافلہ پر حملہ کر کے یا تو قافلہ والوں کو قید کر لیا جاوے اور یا مار دیا جاوے۔چنانچہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی جس کا نام عمرو بن حضر می تھا مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے لیکن بد قسمتی سے چوتھا آدمی بھاگ کر نکل گیا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلہ کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کا ایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی۔عبد اللہ بن جحش اور اُن کے ساتھی سامان غنیمت لے کر جلدی جلدی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔لکھتے ہیں کہ مسٹر مار گولیس اس موقع پر لکھتے ہیں کہ دراصل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دستہ دیدہ دانستہ اس نیت سے شہر حرام میں بھیجا تھا کہ چونکہ اس مہینہ میں قریش طبعاً غافل ہوں گے۔مسلمانوں کو ان کے قافلوں کو لوٹنے کا آسان اور یقینی موقع مل جائے گا لیکن ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مختصر پارٹی کو اتنے دور دراز علاقہ میں کسی قافلہ کی غارت گری کے لیے نہیں بھیجا جا سکتا خصوصاً جبکہ دشمن کا ہیڈ کوارٹر اتنا قریب ہو اور پھر یہ بات تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ پارٹی محض خبر رسانی کی غرض سے بھیجی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلہ پر حملہ کیا تھا تو آپ سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ روایت ہے کہ جب یہ جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو سارے ماجرا کی اطلاع ہوئی تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں شہر حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی ہوئی۔اور آپ نے مالِ غنیمت لینے سے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے۔اور انہوں نے خیال کیا کہ