اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 83

اصحاب بدر جلد 5 83 جمعہ کی نماز پڑھی تھی انہوں نے آنحضرت صلی علیم سے سوال کیا۔ان میں عتبان بن مالك اور ٹو فل بن عبد اللہ بن مالک اور عبادہ بن صامت بھی تھے۔انہوں نے رسول اللہ صلی العلیم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم۔ہمارے ہاں قیام فرمائیے۔یہاں اس علاقے میں لوگوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور عزت و حفاظت بھی پوری ہو گی۔ہم پوری طرح عزت بھی کریں گے، آپ کی حفاظت بھی کریں گے اور یہاں ہیں بھی ہم زیادہ مسلمان۔ایک روایت میں یہ لفظ بھی ہے کہ یہاں دولت اور ثروت بھی ہے۔ہمارے لوگ بڑے کشائش والے ہیں۔پیسے ہمارے پاس ہیں۔ایک روایت میں یوں ہے کہ ہمارے قبیلے میں اتریے، ہم تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور ہمارے پاس ہتھیار بھی ہیں۔نیز ہمارے پاس باغات اور زندگی کی ضروریات بھی ہیں۔یعنی کہ حفاظت بھی ہم کر سکتے ہیں۔مالی لحاظ سے بھی ہم بہتر ہیں۔پھر انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جب کوئی خوف اور دہشت کا مارا ہو ا عرب اس علاقے میں آجاتا ہے تو وہ ہمارے ہاں ہی آکر پناہ ڈھونڈتا ہے۔آپ صلی اللہ ہم نے ان کی ساری باتیں سن لیں۔ان کے لیے خیر کے کلمات عطا فرمائے اور فرمایا تمہاری باتیں، تمہارا سب کچھ ٹھیک ہے۔اور فرمایا کہ اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ آج یہ مامور ہے۔اس نے جہاں بھی جاتا ہے ، رکنا ہے، بیٹھنا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی جائے گی۔ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ مسی ندیم نے فرمایا یہ اونٹنی مامور ہے اس لیے اس کا رستہ چھوڑ دو۔آپ مسکراتے ہوئے یہ فرمار ہے تھے کہ جو بھی تم نے پیشکش کی ہے اللہ تم پر اپنی برکت نازل فرمائے۔پھر اونٹنی وہاں سے چل پڑی۔2 عبادہ بن صامت ایک ہزار کے برابر رض 202 فتح مصر کے متعلق "سیر الصحابہ " کا مصنف جو ہے لکھتا ہے کہ خلافت فاروقی میں مصر کے فتح ہونے میں دیر ہوئی تو حضرت عمر و بن عاص نے حضرت عمرؓ کو مزید مدد کے لیے خط لکھا۔حضرت عمر نے چار ہزار فوج روانہ کی جس میں سے ایک ہزار فوج کے افسر حضرت عبادہ تھے اور جواب میں لکھا کہ ان افسروں میں سے ہر شخص ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔یہ مدد مصر پہنچی تو حضرت عمر و بن عاص نے تمام فوج کو یکجا کر کے ایک پر اثر تقریر کی اور حضرت عبادہ کو بلا کر کہا کہ اپنا نیزہ مجھ کو دیجیے اور خود انہوں نے ، عمرو بن عاص نے، اپنے سر سے اپنا عمامہ اتارا اور نیزے پر لگا کر ان کے حوالے کیا کہ یہ سپہ سالار کا علم ہے، سپہ سالار کا جھنڈا ہے اور آج آپ سپہ سالار ہیں۔خدا کی شان کہ اس کے بعد پہلے ہی حملے میں شہر فتح ہو گیا۔13 حضرت عبادہ اور مختلف علاقوں کی فتوحات 203 حضرت ابو عبیدہ بن جراح فتح دمشق کے بعد حمص آئے اور یہاں کے باشندوں نے ان سے صلح کر لی اس کے بعد انہوں نے حضرت عُبادہ بن صامت انصاری کو حمص پر نگران مقرر کیا اور خود محماة کی طرف بڑھے۔حضرت عُبادہ بن صامت نے بعد میں لاذقیہ کی طرف کوچ کیا جو ملک شام میں ساحل سمندر