اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 82

اصحاب بدر جلد 5 بیت المقدس میں وفات اور تدفین 82 62 حضرت عبادہ 34 ہجری میں رملہ فلسطین میں فوت ہوئے۔بعض کے مطابق بیت المقدس میں فوت ہوئے اور وہیں تدفین ہوئی اور ان کی قبر آج بھی معروف ہے۔ایک روایت کے مطابق حضرت عبادہ کی وفات قبرس میں ہوئی جبکہ وہ حضرت عمر کی طرف سے اس پر والی بنا کر بھیجے گئے تھے۔وفات کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔ان کا قد لمبا جسم فربہ اور بہت خوبصورت تھا۔بعض کے مطابق ان کی وفات پینتالیس ہجری میں امیر معاویہ کے دور میں ہوئی مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے جس میں ان کی وفات جو ہے وہ34 ہجری میں فلسطین میں ہوئی نہ کہ 45 ہجری۔199 حضرت عبادہ بن صامت کی روایات کی تعداد ایک سو اکاسی 81 استک پہنچتی ہے۔احادیث کی مختلف روایات ان سے ہیں جس کے روایت کرنے والے اکابر صحابہ اور تابعین ہیں۔چنانچہ صحابہ کرام میں سے حضرت انس بن مالک، حضرت جابر بن عبد اللہ ، حضرت مقدام بن مَعْدِی كَرِب وغیرہ ہیں۔بیعت عقبہ کی بیعت 200 راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے اور عقبہ کی رات یہ بھی سرداروں میں سے ایک سردار تھے کہ حضرت عبادہ بن صامت نے بیان کیا ہے۔یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی الیم نے جبکہ آپ صلی علیم کے ارد گرد آپ صلی لی ایم کے صحابہ کا ایک گروہ تھا فرمایا کہ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہر آؤ گے۔نہ ہی چوری کرو گے اور نہ ہی اولاد کو قتل کرو گے اور تم دیدہ و دانستہ بہتان نہیں باند ھو گے اور نہ معروف بات میں تم نا فرمانی کرو گے۔پس جس نے بھی تم میں سے یہ عہد پورا کیا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر دنیا میں اسے سزا مل گئی تو یہ سزا اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے۔اللہ چاہے تو اس سے در گزر کرے اور چاہے تو اسے سزا دے۔سو ہم نے ان باتوں پر آپ صلی غلیظلم سے بیعت کی تھی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔201 آنحضرت علی ایم کی میزبان کے لئے بے چین۔۔۔عبادہ بن صامت! ہجرت مدینہ کے وقت نبی کریم صلی علیہم نے جب قبا میں نماز جمعہ ادا فرمائی تو نماز جمعہ پڑھنے کے بعد آنحضرت صلی للی کم مدینہ کی طرف جانے کے لیے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔آپ صلی میں ہم نے اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی اور اس کو کوئی حرکت نہ دی۔اونٹنی دائیں اور بائیں اس طرح دیکھنے لگی کہ جیسے وہ چلنے کے لیے کسی سمت اور کسی رخ کا فیصلہ کر رہی ہے کہ میں کدھر جاؤں۔یہ کھڑی تھی، دائیں بائیں دیکھ رہی تھی اور آگے نہیں چل رہی تھی۔یہ دیکھ کر بنو سالم کے لوگوں نے یعنی جن کے محلے میں آپ صلی یہ کلم نے