اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 63
اصحاب بدر جلد 5 63 اپنی جان کے لئے نہیں ڈرتا کیونکہ میں تو ایک معمولی انسان ہوں۔مارا گیا تو ایک آدمی ہی مارا جائے گا۔یارسول اللہ! مجھے تو صرف یہ خوف تھا کہ اگر آپ کی جان کو کوئی گزند پہنچا تو د نیا میں سے روحانیت اور دین کا نام مٹ جائے گا۔آپ نے فرمایا کوئی پروا نہیں۔یہاں ہم دو ہی نہیں ہیں تیسر ا خدا تعالیٰ بھی ہمارے پاس ہے۔چونکہ اب وقت آپہنچا تھا کہ خدا تعالیٰ اسلام کو بڑھائے اور ترقی دے اور مکہ والوں کے لئے مہلت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور انہوں نے کھوجی سے استہزاء شروع کر دیا اور کہا کہ کیا انہوں نے اس کھلی جگہ پر پناہ لینی تھی؟ یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور پھر اس جگہ کثرت سے سانپ بچھو رہتے ہیں۔یہاں کوئی عقل مند پناہ نہیں لے سکتا اور بغیر اس کے کہ غار میں جھانک کر دیکھتے کھو جی سے ہنسی کرتے ہوئے وہ واپس لوٹ گئے۔اے مکہ کی بستی اتو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر۔الله دو دن اسی غار میں انتظار کرنے کے بعد پہلے سے کلے کی ہوئی تجویز کے مطابق رات کے وقت غار کے پاس سواریاں پہنچائی گئیں اور دو تیز رفتار اونٹنیوں پر محمد رسول اللہ صلی للی کم اور آپ کے ساتھی روانہ ہوئے۔ایک اونٹنی پر محمد رسول اللہ صلی علی یکم اور رستہ دکھانے والا آدمی سوار ہوا اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابو بکر اور ان کے ملازم عامر بن فهيری سوار ہوئے۔مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے رسول کریم صلی علیم نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا۔اُس مقدس شہر پر جس میں آپ پیدا ہوئے، جس میں آپ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کے آباؤ اجداد رہتے چلے آئے تھے آپ نے آخری نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔اے مکہ کی بستی اتو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے ؟ ے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اس وقت حضرت ابو بکر نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا۔ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔جب مکہ والے آپ کی تلاش میں ناکام رہے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " یا ابو بکر کو زندہ یا مردہ واپس لے آئے گا اس کو سو "100" اونٹنی انعام دی جائے گی اور اس اعلان کی خبر مکہ کے ارد گرد کے قبائل کو بھجوادی گئی۔سُراقہ ! تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے چنانچہ سُراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔تلاش کرتے کرتے اس نے مدینہ کی سڑک پر آپ کو جالیا۔جب اس نے دو اونٹنیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی علیکم اور ان کے ساتھی ہیں تو اس نے اپنا گھوڑا ان کے پیچھے دوڑا دیا مگر راستہ میں گھوڑے نے زور سے ٹھو کر کھائی اور سُراقہ گر گیا۔سراقہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنا واقعہ خو داس طرح بیان کرتا ہے۔"169 اور پھر وہ ساری تفصیل جو عراقہ کے حوالے سے پہلے بیان ہو چکی ہے وہ آپ نے تحریر فرمائی ہے۔پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ جب عامر بن فہیرہ نے حضور کے ارشاد پر امن کا پروانہ لکھ دیا اور