اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 41

اصحاب بدر جلد 5 41 وہی پارٹی جو خبر رسانی کے لئے تیار کی گئی تھی ان کے ساتھ روانہ فرما دی۔لیکن دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنو تختیان کی انگیخت پر مدینہ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانہ سے مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جاوے اور بنو لحیان نے اس خدمت کے معاوضہ میں عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کئے تھے۔جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عشقان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں تم " ان کو قتل کرنے کے لئے " آجاؤ جس پر قبیلہ بنو لحیان کے دوسو نوجوان جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجیع میں ان کو آدبایا۔" دس آدمی جو مسلمان تھے وہ " دو سو سپاہیوں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔فوراً یہ صحابی ایک قریب کے ٹیلہ پر چڑھ کر مقابلہ کے واسطے تیار ہو گئے۔کفار نے جن کے نزدیک دھو کہ دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ۔ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔عاصم نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے۔اور پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا کہ اے اللہ ! تو ہماری حالت دیکھ رہا ہے۔اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔غرض عاصم اور اس کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا۔بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔"117 عاصم بن ثابت کی نعش کی خدائی حفاظت آپ مزید یہ لکھتے ہیں کہ " اسی واقعہ رجیع کے ضمن میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ جب قریش مکہ کو یہ اطلاع ملی کہ جو لوگ بنو لحیان کے ہاتھ سے رجیع میں شہید ہوئے تھے ان میں عاصم بن ثابت بھی تھے تو چونکہ عاصم نے بدر کے موقعہ پر قریش کے ایک بڑے رئیس کو قتل کیا تھا اس لئے انہوں نے رجیع کی طرف خاص آدمی روانہ کئے اور ان آدمیوں کو تاکید کی کہ عاصم کا سر یا جسم کا کوئی عضو کاٹ کر اپنے ساتھ لائیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور ان کا جذبہ انتقام تسکین پائے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جس شخص کو عاصم نے قتل کیا تھا اس کی ماں " سلافہ بنت سعد" نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کی کھوپڑی میں شراب ڈال کر پیئے گی۔لیکن خدائی تصرف ایسا ہوا کہ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ زنبوروں " بھڑوں " اور شہد کی مکھیوں کے جھنڈ عاصم کی لاش پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں اور کسی طرح سے وہاں سے اٹھنے میں نہیں آتے۔ان لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ یہ زنبور اور مکھیاں وہاں سے اڑ جائیں مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔آخر مجبور ہو کر یہ لوگ خائب و خاسر واپس لوٹ گئے۔اس کے بعد جلد ہی بارش کا ایک طوفان آیا اور عاصم کی لاش کو وہاں سے بہا کر کہیں کا کہیں لے گیا۔لکھا ہے کہ عاصم نے مسلمان ہونے پر یہ عہد کیا تھا