اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 473

اصحاب بدر جلد 5 وفات 473 1094 حضرت مقداد کا پیٹ بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ان کا ایک رومی غلام تھا وہ ان سے کہنے لگا کہ میں آپ کے پیٹ کو کاٹ کر چربی نکال دوں گا ( اس زمانے میں جو بھی آپریشن کا طریقہ تھا) اس سے وہ ہلکا ہو جائے گا۔آج کل بھی لوگ کرتے ہیں۔چنانچہ اس نے حضرت مقداد کا پیٹ چاک کیا اور چربی نکال کر دوبارہ سی دیا۔لیکن اس وجہ سے حضرت مقداد کی وفات ہو گئی۔کوئی انفیکشن وغیر ہ ہو گیا۔ٹھیک نہیں ہو سکے۔بہر حال وہ غلام یہ دیکھ کے پھر وہاں سے بھاگ گیا۔لیکن ایک اور روایت بھی ہے اس کے مطابق حضرت مقداد کی وفات دُهْنُ الْخروغ یعنی کیسٹر آئل پینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔یہ ابو فائد نے روایت کیا ہے۔حضرت مقداد کی بیٹی کریمہ کہتی ہیں کہ حضرت مقد اڈ کی وفات مدینے سے تین میل کے فاصلے پر مجرف مقام پر ہوئی۔وہاں سے ان کی نعش کو لوگوں کے کندھوں پر اٹھا کر مدینے لایا گیا۔حضرت عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں انہیں دفن کیا گیا۔تینتیس ہجری میں حضرت مقداد کی وفات ہوئی تھی۔وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال یا اس کے قریب تھی۔1095 اللہ نے مجھے چار سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا اللہ نے مجھے چار سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔سوال کیا گیا کہ یارسول اللہ ! وہ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا ( ابن ماجہ کی روایت ہے)۔مختلف وقتوں میں مختلف ہے۔بہر حال یہ روایت یہی ہے۔کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ علی اُن میں سے ہیں، یہ آپ نے تین بار فرمایا اور پھر ابوذر ، پھر سلمان اور مقداد ہیں۔1096 حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ملی ایم نے فرمایا ہر نبی کو سات سات نجیب رفقاء دیے گئے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ یا آپ نے رفقاء کے بجائے نگر ان کا لفظ استعمال فرمایا تھا لیکن مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں ہم نے عرض کیا کہ وہ کون ہیں تو حضرت علی کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ایک تو میں ہوں یعنی حضرت علی میرے دو بیٹے حسن اور حسین، جعفر، حمزہ، ابو بکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، عمار، مقداد، حذیفہ ، ابو ذر اور عبد اللہ بن مسعودؓ۔یہ سنن ترمذی کی روایت ہے۔7 قرآن کریم کی سورہ انعام کی آیت ہے کہ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدُوةِ وَالْعَشِي يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ 1097 فَتَكُونَ مِنَ الظَّلِمين (انعام: 53) اور تو ان لوگوں کو نہ دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام کو بھی۔تیرے ذمہ ان کا کچھ بھی حساب نہیں اور نہ ہی تیر اکچھ حساب ان کے ذمہ ہے۔پس اگر پھر بھی تو انہیں دھتکار دے گا تو تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔