اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 440

اصحاب بدر جلد 5 440 سے یہی سوال کیا۔میں ان کی یہ جرآت دیکھ کر حیران سارہ گیا کیونکہ ابو جہل گویا سر دار لشکر تھا اور اس کے چاروں طرف آزمودہ کار سپاہی جمع تھے۔میں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا کہ وہ ابو جہل ہے۔عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میرا اشارہ کرنا تھا کہ وہ دونوں بچے باز کی طرح جھپٹے اور دشمن کی صفیں کاٹتے ہوئے ایک آن کی آن میں وہاں پہنچ گئے اور اس تیزی سے وار کیا کہ ابو جہل اور اس کے ساتھی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے اور ابو جہل خاک پر تھا۔عکرمہ بن ابو جہل بھی اپنے باپ کے ساتھ تھا وہ اپنے باپ کو تو بچانہ سکا مگر اس نے پیچھے سے معاذ پر ایساوار کیا کہ اس کا بایاں بازو کٹ کر لٹکنے لگا۔معاذ نے عکرمہ کا پیچھا کیا مگر وہ بیچ کر نکل گیا چونکہ کٹا ہوا باز ولڑنے میں مزاہم ہو تا تھا۔معاذ نے اسے زور سے کھینچ کر اپنے جسم سے الگ کر دیا اور پھر لڑنے لگ گئے۔1017 حضرت خلیفة المسیح الثانی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ”ابو جہل جس کی پیدائش پر ہفتوں اونٹ ذبح کر کے لوگوں میں گوشت تقسیم کیا گیا تھا۔جس کی پیدائش پر دفوں کی آواز سے مکہ کی فضا گونج اٹھی تھی۔“ بڑے ڈھول دھمکے بجائے جارہے تھے اور بڑے باجے بجائے جارہے تھے ، دف بجائے جا رہے تھے اور اس کی پیدائش پر بڑی خوشی منائی جارہی تھی کہ مکہ کی فضا بھی گونج اٹھی تھی۔پھر لکھتے ہیں کہ ”بدر کی لڑائی میں جب مارا جاتا ہے تو پندرہ پندرہ سال کے دو انصاری چھو کرے تھے جنہوں نے اسے زخمی کیا تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جب جنگ کے بعد لوگ واپس جارہے تھے تو میں میدان میں زخمیوں کو دیکھنے کے لیے چلا گیا۔آپ بھی مکہ کے ہی تھے اس لیے ابو جہل آپ کو اچھی طرح جانتا تھا۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میں میدان جنگ میں پھر ہی رہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ابو جہل زخمی پڑا کراہ رہا ہے۔جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اب بچتا نظر نہیں آتا۔تکلیف زیادہ بڑھ گئی ہے۔تم بھی مکہ والے ہو۔میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ تم مجھے مار دو تا میری تکلیف دور ہو جائے لیکن تم جانتے ہو کہ میں عرب کا سردار ہوں اور عرب میں یہ رواج ہے کہ سرداروں کی گردنیں لمبی کر کے کائی جاتی ہیں اور یہ مقتول کی سرداری کی علامت ہوتی ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ تم میری گردن لمبی کر کے کاٹنا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی گردن ٹھوڑی سے کاٹ دی۔“ ٹھوڑی کے قریب سے کائی ” اور کہا تیری یہ آخری حسرت بھی پوری نہیں کی جائے گی۔اب انجام کے لحاظ سے دیکھو تو ابو جہل کی موت کتنی ذلت کی موت تھی۔جس کی گردن اپنی زندگی میں ہمیشہ اونچی رہا کرتی تھی وفات کے وقت اس کی گردن ٹھوڑی سے کاٹی گئی اور اس کی یہ آخری حسرت بھی پوری نہ ہوئی۔حضرت ربیع بنت معوذ " سے مروی ہے کہ میرے چچا حضرت معاذ بن عفر او نے مجھے کچھ تر و تازہ کھجوریں دے کر حضور اکرم صلی علیکم کی خدمت میں بھیجا تو نبی کریم صلی علیکم نے مجھے زیور عطا فرمایا جو بحرین کے حاکم نے آپ کو بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ربیع بنت معوذ سے روایت 1018❝