اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 437
اصحاب بدر جلد 5 437 مکہ میں اسلام قبول کرنے والے اولین انصار میں سے ایک روایت کے مطابق حضرت معاذ بن حارث اور حضرت رافع بن مالک زرق ان اولین انصار میں سے ہیں جو حضور اکرم پر لگے میں ایمان لائے تھے اور حضرت معاذ ان آٹھ انصار میں شامل ہیں جو آنحضرت صلی علیم پر بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر مکے میں ایمان لائے۔اسی طرح بیعت عقبہ ثانیہ میں بھی حضرت معاذ حاضر تھے۔حضرت مغمر بن حارث جب مکے سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو نبی کریم صلی ا ہم نے ان کے اور حضرت معاذ بن حارث کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔1011 1012 ابو جہل کو قتل کرنے والوں میں سے ابو جہل کے قتل کی تفصیل گو پہلے گذشتہ سال کے ایک خطبے میں کچھ حد تک بیان ہو چکی ہے لیکن یہاں بھی یہ بیان کرتا ہوں۔یہ بھی ضروری ہے کیونکہ حضرت معاذ سے بھی اس کا تعلق ہے اور یہ بخاری کی روایات ہیں جو بیان کروں گا اور خلاصہ تو ان کا بیان نہیں ہو سکتا، بخاری کی پوری روایت ہی ڑھنی ہو گی۔صالح بن ابراہیم اپنے دادا حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو انصاری لڑکے ہیں۔ان کی عمریں چھوٹی ہیں۔میں نے آرزو کی کہ کاش میں ایسے لوگوں کے درمیان ہو تا جو ان سے زیادہ جو ان اور تنومند ہوتے۔اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ سے دبا کر پوچھا کہ چا کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں بھیجے۔تمہیں اس سے کیا کام ہے ؟ اس نے کہا مجھے بتلایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی علیکم کو گالیاں دیتا ہے اور اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ پاؤں تو میری آنکھ اس کی آنکھ سے جدا نہ ہو گی جب تک ہم دونوں میں سے وہ نہ مر جائے جس کی مدت پہلے مقدر ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ مجھے اس سے بڑا تعجب ہوا۔پھر دوسرے نے مجھے ہاتھ سے دبایا۔دوسری طرف جو کھڑا تھا اور اس نے بھی مجھے اسی طرح پوچھا۔ابھی تھوڑا عرصہ گزرا ہو گا کہ میں نے ابو جہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔میں نے کہا دیکھو یہ ہے وہ تمہار ا سا تھی جس کے متعلق تم نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔یہ سنتے ہی وہ دونوں جلدی سے اپنی تلواریں لیے اس کی طرف لیکے اور اسے اتنا مارا کہ اس کو جان سے مار ڈالا اور پھر لوٹ کر رسول اللہ صلی لیلی کیم کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔آپ نے پوچھا تم میں سے کس نے اس کو مارا ہے۔دونوں نے کہا میں نے اس کو مارا ہے۔آپ نے پوچھا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ کر صاف کرلی ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے تلواروں کو دیکھا۔آپ صلی الیم نے فرمایا کہ تم دونوں نے ہی اس کو مارا ہے۔پھر فرمایا کہ اس کا مال معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا اور ان دونوں کا نام معاذ تھا۔معاذ بن عفراء اور مُعاذ بن عمرو بن جموح یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔3 1013