اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 427

اصحاب بدر جلد 5 983 427 982 لیکن آئندہ ایسانہ کرنا کیونکہ مجھے تکلیف ہے اس لیے میں نے نماز میں اپنا پاؤں پھیلایا تھا۔مطلب یہ تھا کہ مجھے دیکھ کے تم نے اطاعت کا جو نمونہ دکھا یا وہ ہر لحاظ سے ہی قابل تعریف ہے۔اطاعت اسی طرح ہونی چاہیے کہ امام کے پیچھے مکمل طور پر اس کی پیروی کی جائے لیکن میری یہ مجبوری ہے۔یہ سنت نہیں ہے اور جس کو مجبوری نہیں وہ صحیح طرح نماز پڑھے۔اسی طرح جس طرح حکم ہے، جس طرح سنت ہے، جس طرح ہمارے سامنے آنحضرت صلی علیہ نیم کا تعامل رہا ہے۔حضرت معاذ نے یمن میں بیت المال کے پیسوں سے تجارت کی اور اس سے جو منافع ہوا اس سے اپنا قرض ادا کیا۔آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے مال سے تجارت کی اور رسول اللہ صلی علیکم کی اجازت سے ہدیہ بھی قبول کرتے رہے اور یہاں تک کہ آپ کے پاس تیس راس بھیڑ بکریاں ہو گئیں۔یہ اجازت جو آنحضرت صلی اللہ ہم نے انہیں دی تھی یقینا قرض کی ادائیگی کے لیے تھی اور تجارت اس حد تک تھی کہ جو منافع ہو تا تھا اس مال میں سے کچھ قرض اتارتے جاتے تھے یا منافع اگر نہیں بھی لیتے تھے تو یہ بھی ممکن ہے کہ تجارت پر جو منافع تھا اس میں اپنے کام کی اجرت کے طور پر لیتے ہوں کہ یہ میں نے اس طرح خرچ کیا۔جو میرا مشورہ تھا اور جو محنت تھی اس کی یہ اجرت ہے اور اس کی اجازت آنحضرت صلی ا لم نے عطا فرمائی تھی اس لیے پھر انہوں نے یہ لے لی تا کہ قرض ادا ہو اور یہی بات قابل قبول لگتی ہے کہ منافع کی شرح میں سے اجرت لیتے ہوں یا کچھ حد تک منافع لیتے ہوں لیکن بہر حال جو بھی تھا وہ آنحضرت صلی الم کی اجازت سے تھا۔آنحضرت صلی علیہ ظلم کی وفات کے بعد جب حضرت معاذ حج کرنے آئے تو وہ حضرت عمرؓ سے ملے جنہیں حضرت ابو بکر نے حج پر عامل بنایا تھا۔حضرت عمررؓ اور حضرت معاذ کی يَوْمُ التروية کو ملاقات ہوئی۔دونوں نے آپس میں معانقہ کیا اور ایک دوسرے سے رسول اللہ صلی اللی کم کی تعزیت کی۔پھر دونوں زمین پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔984 بیت المال کے اموال سے تجارت اور۔۔۔۔۔۔الاستیعاب میں لکھا ہے، یہ بھی تاریخ کی ایک کتاب ہے، کہ حضرت معاذ بہت سخی تھے اور اسی سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے یہ نوبت آگئی کہ ان کا سارا مال قرضے کی زد میں آگیا۔وہ نبی کریم صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے درخواست کی کہ آپ صلی علی وام قرض خواہوں سے کہیں کہ وہ ان کا قرض معاف کر دیں۔پہلے بھی یہ بیان ہوا ہے۔یہ مختلف حوالے سے دوسری یا وہی بات بیان ہو رہی ہے۔آپ نے ان کے قرض خواہوں سے کہا لیکن انہوں نے قرض معاف کرنے سے انکار کر دیا۔پھر آگے اس نے یہ لکھا ہے کہ اگر کوئی کسی کی خاطر کسی کا قرض معاف کر تا تو وہ لوگ رسول اللہ صلی علیم کی خاطر حضرت معاذ بن جبل شما قرض معاف کر دیتے۔سب سے بڑا تو آنحضرت علی یی کم کا مقام تھا آپ کی خاطر ہی کوئی