اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 422

اصحاب بدر جلد 5 ایسے : 422 ، بات پہنچ جائے کہ لَا اِلهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہہ دیا اور کسی عمل کی ضرورت نہیں۔اب دیکھیں کہ اس کے باوجو د عملاً مسلمانوں کا یہی حال ہے کہ صرف نام کے مسلمان ہیں۔کلمہ پڑھ کے سمجھتے ہیں کسی عمل کی ضرورت نہیں۔پھر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔وہ مختلف احادیث بیان کر رہے تھے اور یہ بھی اس میں شامل تھی کہ اس حدیث نے اس قسم کی باتوں کی نوعیت واضح کر دی ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ مسلم نے بھی حضرت ابن مسعودؓ کی ایک روایت صحیح سند سے بیان کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لَا يَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ إِلَّا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةٌ- ان ارشادات نبویہ کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق مخاطب کرنا چاہیے کیونکہ بعض باتیں فتنے میں مبتلا کر دیتی ہیں۔بہر حال وہ پھر آگے لکھتے ہیں کہ ہم اب بھی دیکھتے ہیں کہ مومن ساز لوگوں نے کس طرح لا الہ الا اللہ کے محض زبانی اقرار کو اپنے لیے آڑ بنارکھا ہے اور شریعت کی تکلیفوں سے بنی نوع انسان کو آزاد کر کے ان کو ایمان کا سر ٹیفکیٹ دے دینا چاہتے ہیں اور صِدِّقًا مِّن قَلْبِہ یعنی اس کے ضروری لوازمات کا کچھ خیال نہیں کرتے۔ہر مولوی، ہر منبر کا خطبہ دینے والا وہ سمجھتا ہے کہ جو میرے پیچھے نمازیں پڑھ رہا ہے اس نے وہی کلمہ پڑھ لیا تو سرٹیفکیٹ مل گیا۔باقی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ زبان سے اقرار کرنے والے انہی مومنوں کے ہوتے ہوئے آنحضرت صلی علیم نے فرمایا تھا کہ ایمان اس وقت نہ دلوں میں ہو گا نہ زبان پر بلکہ ثریا پر ہو گا۔یہ آخری زمانے کے بارے میں ہے۔جبکہ وہ لوگ موجود تھے اور یہ کلمہ پڑھنے والی بات بھی آپ نے کہی تھی۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ من لقی الله لا يُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا۔یعنی جو شخص موت تک ہر قسم کے شرک سے بچتا رہے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔آنحضرت صلی اللی کم کا حضرت معاذ کو دو تین دفعہ مخاطب کر کے خاموش ہو جانا اور پھر یہ بات بتلانا یہ اسی اصل کے مطابق ہے کہ آپ نے جستجو کے متعلق احساس اور خواہش کو ابھارا ہے۔دو تین دفعہ جب انہوں نے کہا حاضر ہوں، حاضر ہوں، لبیک تو توجہ پیدا ہوئی، شوق پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی ا ظلم کیا فرمانا چاہتے ہیں۔جب جوش اور ایک خالص توجہ پیدا ہو گئی تو پھر آپ نے ان کو بتایا۔پھر شاہ صاحب یہ لکھتے ہیں کہ تا آپ کی بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے اور اس کا اثر نفس پر قائم رہے۔یہ بات ذہن کرانے کے لیے آپ نے تین دفعہ ان کو توجہ دلائی تھی۔حضرت معاذ نے بھی آنحضرت صلی علیم کے ارشاد کا پورا ادب کیا اور مرتے وقت وہ بتلایا کہ مبادا ایک نہایت ضروری بات کے نہ بتانے سے ان سے مؤاخذہ نہ ہو۔972 یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کہے کہ تمہارے علم میں ایک بات آئی اور تم نے آگے نہیں بتائی یعنی علمی بات کم از کم علم رکھنے والے لوگوں تک پہنچ جانی چاہیے۔آجکل کے مسلمانوں کی حالت ویسے تو آج کل مسلمان ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، کلمہ پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ شرک سے پاک ہو گئے ہیں لیکن دل شرک سے بھرے ہوئے ہیں۔انحصار دنیاوی چیزوں پر ہے۔بڑے بڑے خطیب بھی