اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 409

اصحاب بدر جلد 5 937 409 انہیں ان کے ماموں حضرت حمزہ کی شہادت کی خبر دی۔اس پر انہوں نے اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ پڑھا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی۔پھر لوگوں نے انہیں ان کے خاوند حضرت مصعب بن عمیر کی شہادت کی اطلاع دی۔اس پر وہ رونے لگیں اور بے چین ہو گئیں۔اس پر رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کہ عورت کے لیے اس کے خاوند کا ایک خاص مقام و مرتبہ ہوتا ہے۔ایک دوسری روایت میں حضرت حمنہ بنت جحش کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ تمہارا بھائی شہید کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا اللہ اس پر رحم کرے اور کہا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ لوگوں نے کہا تمہارے خاوند بھی شہید کر دیے گئے ہیں وہ کہنے لگیں ہائے افسوس ! اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ عورت کو خاوند سے ایسا تعلق ہے جو کسی اور سے نہیں۔938 یہ واقعہ ایک خطاب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اپنے انداز میں بھی بیان فرمایا ہے جس میں حضرت مصعب بن عمیر کی شہادت کا واقعہ اور ان کی شہادت پر ان کی بیوی کے جو جذبات تھے ان کا ذکر فرمایا ہے۔اس طرح آپ فرماتے ہیں کہ وہ صحابہ یا صحابیات جن کے اقرباء کی تعداد ایک سے زیادہ ہوتی ان کو ٹھہر ٹھہر کر اس انداز میں خبر دیتے کہ صدمہ یکلخت دل کو مغلوب نہ کر لے۔چنانچہ جس وقت حضور کی خدمت میں حضرت عبد اللہ کی بہن حمنہ بنت جحش حاضر ہوئیں تو آپ نے فرمایا اے حمنہ !تو صبر کر اور خدا سے ثواب کی امید رکھ۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کس کے ثواب کی؟ آپ نے فرمایا اپنے ماموں حمزہ کی۔تب حضرت حمنہ نے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةَ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اے حمنہ ! صبر کر اور خدا سے ثواب کی امید رکھ۔اس نے عرض کی کہ یہ کس کے ثواب کی۔آپ نے فرمایا اپنے بھائی عبد اللہ کی۔اس پر حمنہ نے پھر یہی کہا کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةَ پھر آپ نے فرمایا اے حمنہ ! صبر کر اور خد ا سے ثواب کی امید رکھ۔انہوں نے عرض کیا حضور یہ کس کے لیے؟ فرمایا مصعب بن عمیر کے لیے۔اس پر حمنہ نے کہا ہائے افسوس ! یہ سن کر حضور صلی علی یم نے فرمایا کہ واقعی شوہر کا بیوی پر بڑا حق ہے کہ کسی اور کا نہیں۔اس سے پوچھا مگر تو نے ایسا کلمہ کیوں کہا۔اس پر انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے اس کے بچوں کی یتیمی یاد آگئی تھی جس سے میں پریشان ہو گئی اور پریشانی کی حالت میں یہ کلمہ میرے منہ سے نکل گیا۔یہ سن کر حضور صلی الیکم نے مصعب کی اولاد کے حق میں یہ دعا کی کہ اے اللہ ! ان کے سر پرست اور بزرگ ان پر شفقت اور مہربانی کریں اور ان کے ساتھ سلوک سے پیش آویں۔9 اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ اچھا سلوک رکھا۔آنحضرت صلی علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی۔940 939