اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 396
396 283 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب و کنیت حضرت مصعب بن عمیر حضرت مصعب بن عمیر کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو عبد الدار سے تھا۔حضرت مصعب بن عمیر کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔اس کے علاوہ ان کی کنیت ابو محمد بھی بیان کی جاتی ہے۔حضرت مصعب کے والد کا نام عمیر بن ہاشم اور ان کی والدہ کا نام خناس یا حناس بنت مالک تھا جو مکہ کی ایک مال دار خاتون تھیں۔ناز و نعمت میں پرورش پانے والے حضرت مصعب بن عمیر کے والدین ان سے بہت محبت کرتے تھے۔حضرت مصعب بن عمیر کی والدہ نے ان کی پرورش بڑے ناز و نعمت سے کی۔وہ انہیں بہترین پوشاک اور اعلیٰ لباس پہناتی تھیں اور ناز ے کی۔وہ اعلی اور حضرت مصعب ملنے کی اعلیٰ درجے کی خوشبو استعمال کرتے اور حضر می جو تاجو حضر موت کے علاقے کا بنا ہوا جو تا تھا، امیر لوگوں کے لیے مخصوص تھا، وہاں سے منگوا کے پہنا کرتے تھے۔حضر موت عدن سے مشرق کی طرف سمندر کے قریب ایک وسیع علاقہ ہے۔بہر حال اعلیٰ لباس، اعلیٰ خوشبو اور جو تا تک وہ باہر سے منگوایا کرتے تھے۔حضرت مصعب بن عمیر کی بیوی کا نام حمنہ بنت جحش تھا جو رسول اللہ صلی علیکم کی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کی بہن تھیں۔حمنہ بنت جحش سے ایک بیٹی زینب پیدا ہوئیں۔رسول اللہ صل الل علم حضرت مصعب بن عمیر کو یاد کرتے تو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے مصعب سے زیادہ حسین و جمیل اور ناز و نعمت اور آسائش میں پروردہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔06 حضرت مصعب بن عمیرہ جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اور ابتدا میں ہی اسلام قبول کرنے والے سابقین میں شامل تھے۔رسول اللہ صلی علی یکم جب دارِ ارقم میں تبلیغ کیا کرتے تھے اس وقت آپ نے اسلام رار قبول کیا لیکن اپنی والدہ اور قوم کی مخالفت کے اندیشے سے اسے مخفی رکھا۔حضرت مصعب منچھپ کر نبی کریم صلی کمی کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ایک دفعہ عثمان بن طلحہ نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور ان کے گھر والوں اور والدہ کو خبر کر دی۔والدین نے ان کو قید کر دیا۔906