اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 386
386 اصحاب بدر جلد 5 آئیں گے۔کہتی ہیں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اسی اثناء میں میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔صَفَوان بن معطل سُلمي ذكواني فوج کے پیچھے رہا کرتے تھے۔ایک آدمی پیچھے ہو تا تھا تا کہ دیکھ لے کہ قافلہ چلا گیا ہے تو کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔کہتی ہیں وہ صبح میرے ڈیرے پر آئے اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا وجود دیکھا اور میرے پاس آئے۔اور حجاب کے حکم سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔واپس آئے تو انہوں نے انا لہ پڑھا۔ان کے انا للہ پڑھنے پر میں جاگ اٹھی۔اس کے بعد پہلے اونٹنی قریب لے آئے، اور جب انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی تو میں اس پر سوار ہو گئی اور وہ اونٹنی کی تکمیل پکڑ کر چل پڑے۔کہتی ہیں: یہاں تک کہ ہم فوج میں اس وقت پہنچے جب لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے ڈیروں میں تھے۔پھر جس کو ہلاک ہو نا تھا ہلاک ہو گیا۔یعنی اس بات پر بعض لوگوں نے الزام لگانے شروع کر دئے۔غلط قسم کی باتیں حضرت عائشہ کی طرف منسوب کر دیں۔فرماتی ہیں اس تہمت کا بانی عبداللہ بن اُبی بن سلول تھا۔ہم مدینہ پہنچے۔میں وہاں ایک ماہ تک بیمار رہی۔تہمت لگانے والوں کی باتوں کا لوگ چرچا کرتے رہے اور میری اس بیماری کے اثناء میں جو بات مجھے شک میں ڈالتی تھی وہ یہ تھی کہ میں نبی صلی علیم سے وہ مہربانی نہیں دیکھتی تھی جو میں آپ سے اپنی بیماری میں دیکھا کرتی تھی۔بڑا چرچا ہو گیا۔تہمت لگائی۔مشہوری ہو گئی۔آنحضرت صلی میں کم تک بھی باتیں پہنچیں۔کہتی ہیں آنحضرت صلی علیہ کم کا بیماری میں جو سلوک میرے ساتھ پہلے ہوا کر تا تھاوہ مجھے نظر نہیں آتا تھا۔آپ صرف اندر آتے اور السلام علیکم کہتے۔پھر پوچھتے کہ اب وہ کیسی ہے۔اور وہ بھی ان کے والدین سے پوچھ لیتے۔کہتی ہیں کہ مجھے اس تہمت کا کچھ بھی علم نہ تھا یہاں تک کہ جب میں نے بیماری سے شفا پائی۔اور نقاہت کی حالت میں تھی کہ میں اور اتم مسطح مناصع کی طرف گئیں جو قضائے حاجت کی جگہ تھی۔ہم رات کو ہی نکلا کرتے تھے اور یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے جب ہم نے اپنے گھروں میں، گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے تھے۔اس زمانے میں رفع حاجت کے لئے لوگ باہر جایا کرتے تھے اور عور تیں رات کو جب اندھیرا پھیل جائے نکلا کرتی تھیں۔کہتی ہیں اس سے قبل ہماری حالت پہلے عربوں کی سی تھی کہ جنگل میں یا باہر جا کر قضائے حاجت کیا کرتے تھے۔میں اور اہم مسطح بنت ابی رھم دونوں جارہی تھیں کہ اتنے میں وہ اپنی اوڑھنی سے اٹکی اور ٹھو کر کھائی۔تب بولی کہ مسطح بد نصیب ہو۔میں نے اس سے کہا کہ کیا بری بات کی ہے تم نے۔کیا تو ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہے جو جنگ بدر میں موجو د تھا۔اس نے کہا کہ اری بھولی بھالی لڑکی ! کیا تم نے نہیں سنا جو لوگوں نے افترا کیا ہے ؟ تب اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات سنائی کہ یہ الزام تمہارے پر لگایا گیا ہے۔کہتی ہیں میں بیماری سے ابھی اٹھی تھی، نقاہت تو تھی ہی۔یہ بات سن کے میری بیماری بڑھ گئی۔جب اپنے گھر لوٹی تو رسول اللہ صلی علیکم میرے پاس آئے۔آپ نے السلام علیکم کہا اور آپ نے پوچھا اب تم کیسی ہو ؟ میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں۔کہتی تھیں کہ میں اُس