اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 379
اصحاب بدر جلد 5 872 379 پاس لا کر مار نا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے۔پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تمہارے پاس کسی خطا کار کا ہاتھ پہنچے یا تمہیں موت آئے۔پس آپ نے ایسا ہی کیا۔آپ فتنوں سے الگ رہے اور جنگ جمل اور صفین میں شامل نہیں ہوئے۔2 ضُبَيْعَة بن حصين ثَعْلَبی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ " کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ میں ایک ایسے آدمی کو جانتا ہوں جسے فتنہ کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ہم نے کہا وہ کون ہے۔حضرت حذیفہ نے کہا کہ وہ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری ہیں۔پھر جب حضرت حذیفہ فوت ہو گئے اور فتنہ ظاہر ہو گیا تو میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا جو مدینہ سے نکل رہے تھے۔پھر میں پانی کے ایک مقام پر پہنچا۔وہاں پانی available تھا۔میں نے وہاں ایک ٹوٹا ہوا خیمہ دیکھا جو ایک طرف کو جھکا ہوا تھا اور ہوا کے تھپیڑے اسے لگ رہے تھے۔میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن مسلمہ کا خیمہ ہے۔میں ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ ایک عمر رسیدہ انسان ہیں۔میں نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے۔میں دیکھتا ہوں کہ آپؐ مسلمانوں کے بہترین لوگوں میں سے ہیں۔آپ نے اپنا شہر اور اپنا گھر اور اپنے اہل و عیال اور اپنے پڑوسی چھوڑ دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سب کچھ شر سے کراہت کی وجہ سے چھوڑا ہے۔373 ان کی وفات کے متعلق اختلاف ہے کہ کب ہوئی ؟ مختلف روایات کے مطابق تینتالیس، چھیالیس یا سینتالیس ہجری میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی اور اس وقت آپ کی عمر 77 سال تھی۔آپؐ کی نماز جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی جو اس وقت مدینے کے امیر تھے۔بعض روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ کسی نے انہیں شہید کر دیا تھا۔874 276) نام و نسب حضرت مدلج بن عمرو اپنے دو بھائیوں کے ساتھ جنگ بدر میں شرکت حضرت مدلج بن عمرو کا نام مدلاج بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو سُلیم کے خاندان بَنُوحَجر سے تھا۔یہ بنو کبیر بن غنم بن دُودَان کے حلیف تھے جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق بنو عمر و بن دُودان کے حلیف تھے جو پھر آگے بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔875