اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 367
اصحاب بدر جلد 5 367 اور پھر چکر کاٹ کر جنوب کی طرف گھوم جاتے تھے یا کبھی کوئی شخص پوچھتا تھا کہ کدھر سے آئے ہو تو بجائے مدینے کا نام لینے کے قریب یا دور کے پڑاؤ کا نام لے دیتے تھے یا اسی قسم کی کوئی اور جائز جنگی تدبیر اختیار فرماتے تھے یا جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ کیا گیا ہے کہ صحابہ بعض اوقات ایسا کرتے تھے کہ دشمن کو غافل کرنے کے لیے میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیتے تھے اور جب دشمن غافل ہو جا تا تھا اور اس کی صفوں میں ابتری پیدا ہو جاتی تھی تو پھر اچانک حملہ کر دیتے تھے اور یہ ساری صورتیں اس خُدعة کی ہیں جسے حالات جنگ میں جائز قرار دیا گیا ہے اور اب بھی جائز سمجھا جاتا ہے لیکن یہ کہ جھوٹ اور غداری وغیرہ سے کام لیا جاوے اس سے اسلام نہایت سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی للہ ہم عموماً فرمایا کرتے تھے کہ اسلام میں خدا کے ساتھ شرک کرنے اور والدین کے حقوق تلف کرنے کے بعد تیسرے نمبر پر جھوٹ بولنے کا گناہ سب سے بڑا ہے۔نیز فرماتے تھے کہ ایمان اور بزدلی ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں مگر ایمان اور جھوٹ کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور دھو کے اور غداری کے متعلق فرماتے تھے کہ جو شخص غداری کرتا ہے وہ قیامت کے دن خدا کے سخت عتاب کے نیچے ہو گا۔الغرض جنگ میں جس قسم کے خُدعة کی اجازت دی گئی ہے وہ حقیقی دھوکا یا جھوٹ نہیں ہے بلکہ اس سے وہ جنگی تدابیر مراد ہیں جو جنگ میں دشمن کو غافل کرنے یا اسے مغلوب کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہیں اور جو بعض صورتوں میں ظاہری طور پر جھوٹ اور دھو کے کے مشابہ تو سمجھی جاسکتی ہیں مگر وہ حقیقتا جھوٹ نہیں ہو تیں۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے خیال میں مندرجہ ذیل حدیث اس کی مصدق ہے۔اور وہ حدیث یہ ہے کہ: ام کلثوم بنت عقبہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الی یکم کو صرف تین موقعوں کے لیے ایسی باتوں کی اجازت دیتے سنا جو حقیقت تو جھوٹ نہیں ہوتیں مگر عام لوگ انہیں غلطی سے جھوٹ سمجھ سکتے ہیں۔پہلی یہ کہ جنگ۔دوم یہ کہ لڑے ہوئے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا موقع اور سوم جبکہ مرد اپنی عورت سے یا عورت اپنے مرد سے کوئی ایسی بات کرے جس میں ایک دوسرے کو راضی اور خوش کرنا مقصود ہو۔نیک نیت ، ہر صورت میں نیت نیک ہونی چاہیے یا نیک مقاصد حاصل ہونے چاہئیں۔یہ حدیث اس بات میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ جس قسم کے مخدعة کی جنگ میں اجازت دی گئی ہے جھوٹ اور دھو کا مراد نہیں ہے بلکہ وہ باتیں مراد ہیں جو بعض اوقات جنگی تدابیر کے طور پر اختیار کرناضروری ہوتی ہیں اور جو ہر قوم اور ہر مذہب میں جائز سمجھی گئی ہیں۔کعب بن اشرف کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد ابن ہشام نے یہ روایت نقل کی ہے کہ کعب کے قتل کے بعد آنحضرت علی ایم نے صحابہ سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اب جس یہودی پر تم قابو پاؤ سے قتل کر دو۔نانچہ ایک صحابی محیصہ نامی نے ایک یہودی پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا تھا اور یہی روایت ابو داؤد نے ہے اور دونوں روایتوں کا منبع ابن اسحاق ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ علم روایت کی رو سے یہ روایت کمزور اور نا قابل اعتماد ہے۔آنحضرت صلی یہ ہم نے یہ بالکل نہیں کہا کیونکہ ابنِ