اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 366

366 اصحاب بدر جلد 5 میں کعب رضامندی اور خاموشی کے ساتھ گھر سے نکل کر ان کے ساتھ آجاوے اور اس میں ہر گز کوئی قباحت نہیں ہے۔آخر جنگ کے دوران میں جاسوس وغیرہ جو اپنے فرائض ادا کرتے ہیں ان کو بھی تو اسی قسم کی باتیں کہنی پڑتی ہیں جس پر کبھی کسی عقل مند کو اعتراض نہیں ہوا۔پس آنحضرت صلی للی کمر کا دامن تو بہر حال پاک ہے۔باقی رہا محمد بن مسلمہ وغیرہ کا معاملہ جنہوں نے وہاں جاکر عملاً اس قسم کی باتیں کیں۔سوان کی گفتگو میں بھی در حقیقت کوئی بات خلاف اخلاق نہیں ہے۔انہوں نے حقیقتاً کوئی غلط بیانی نہیں کی البتہ اپنے مشن کی غرض وغایت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ ذو معنیین الفاظ ضرور استعمال کیے۔مختلف معنی نکلنے والے الفاظ استعمال کیے مگر ان کے بغیر چارہ نہیں تھا اور حالات جنگ میں ایک اچھی اور نیک غرض کے ماتحت سادہ اور صاف گوئی کے طریق سے اس قدر خفی انحراف ہر گز کسی عقل مند دیانت دار شخص کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔کیا جنگ میں جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا جائز ہے؟ اب یہ سوال بھی بعضوں نے اٹھایا کہ کیا جنگ میں جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا جائز ہے ؟ بعض روایتوں میں یہ مذکور ہوا ہے کہ آنحضرت میام فرمایا کرتے تھے کہ الحرب محدعَةٌ یعنی جنگ تو ایک دھوکا ہے اور اس سے نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی یکی کی طرف سے جنگ میں دھو کے کی اجازت تھی۔حالانکہ اول تو الحرب خدعة کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جنگ میں دھو کا کرنا جائز ہے بلکہ اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ جنگ خود ایک دھوکا ہے۔یعنی جنگ کے نتیجے کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہو گا۔یعنی جنگ کے نتیجے پر اتنی مختلف باتیں اثر ڈالتی ہیں کہ خواہ کیسے ہی حالات ہوں نہیں کہا جا سکتا کہ نتیجہ کیا ہو گا اور ان معنوں کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ حدیث میں یہ روایت دو طرح سے مروی ہے۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت صلی ملی یکم نے فرمایا کہ الحزب خُدَعَةٌ یعنی جنگ ایک دھوکا ہے۔اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ سکمی الْحَرب خُدعَةً یعنی آنحضرت صلی المیہ تم نے جنگ کا نام دھوکار کھا تھا۔سلمى الحرب خدعت۔اور دونوں کے ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کا منشا یہ نہیں تھا کہ جنگ میں دھو کا کرنا جائز ہے بلکہ یہ تھا کہ جنگ خود ایک دھوکا دینے والی چیز ہے لیکن اگر ضرور اس کے یہی معنے کیے جائیں کہ جنگ میں دھو کا جائز ہے تو پھر بھی یقیناً اس جگہ دھو کے سے جنکی تدبیر اور حیلہ مراد ہے۔جھوٹ اور فریب ہر گز مراد نہیں ہے کیونکہ اس جگہ خُدعة کے معنے داؤ پیچ اور تدبیر جنگ کے ہیں ، جھوٹ اور فریب کے نہیں ہیں۔پس مطلب یہ ہے کہ جنگ میں اپنے دشمن کو کسی حیلے اور تدبیر سے غافل کر کے قابو میں لے آنا یا مغلوب کر لینا منع نہیں ہے۔اب داؤ پیچ کی بھی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔مثلاً صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی علی یم جب کسی مہم میں نکلتے تو عموماً اپنا منزلِ مقصود ظاہر نہیں فرماتے تھے اور بعض اوقات ایسا بھی کرتے تھے کہ جانا تو جنوب کی طرف ہو تا تھا مگر شروع شروع میں شمال کی طرف رخ کر کے روانہ ہو جاتے تھے