اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 365
اصحاب بدر جلد 5 365 اس کے کہ بہت سے پر امن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اور ملک کا امن برباد ہو۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس معاہدے کی رو سے جو ہجرت کے بعد مسلمانوں اور یہود کے درمیان ہوا تھا آنحضرت صلی علیم کو ایک معمولی شہری کی حیثیت حاصل نہ تھی بلکہ آپ اس جمہوری سلطنت کے صدر قرار پائے تھے جو مدینے میں قائم ہوئی تھی اور آپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جملہ تنازعات اور امور سیاسی میں جو فیصلہ مناسب خیال کریں صادر فرمائیں۔نہیں آپ نے ملک کے امن کے مفاد میں کعب کی فتنہ پردازی کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا۔600 پس اس فیصلہ قتل پر کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔پھر تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ خود یہود نے کعب کی اس سزا کو اس کے جرموں کی روشنی میں واجبی سمجھ کر خاموشی اختیار کی اور اس پر اعتراض نہیں کیا اور اگر یہ اعتراض کیا جاوے کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ قتل کا حکم دینے سے پہلے یہود کو بلا کر ان کو کعب کے جرم سنائے جاتے اور حجت پوری کرنے کے بعد اس کے قتل کا باقاعدہ اور برملا طور پر حکم دیا جاتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت حالات ایسے نازک ہو رہے تھے کہ ایسا طریق اختیار کرنے سے بین الا قوامی پیچیدگیوں کے بڑھنے کا سخت خطرہ تھا اور کوئی تعجب نہ تھا کہ مدینے میں ایک خطر ناک سلسلہ کشت و خون اور خانہ جنگی کا شروع ہو جاتا۔پس ان کاموں کی طرح جو جلد اور خاموشی کے ساتھ ہی کر گزرنے سے فائدہ مند ہوتے ہیں آنحضرت صلی علی کرم نے امن عامہ کے خیال سے یہی مناسب سمجھا کہ خاموشی کے ساتھ کعب کی سزا کا حکم جاری کر دیا جائے مگر اس میں قطعاً کسی قسم کے دھوکے کا دخل نہ تھا اور نہ آنحضرت صلی اللی کم کا یہ منشا تھا کہ یہ سزا ہمیشہ کے لیے بصیغہ راز رہے کیونکہ جو نہی یہود کا وفد دوسرے دن صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ صلی للی کرم نے فوراً بلا توقف انہیں ساری سرگزشت سنادی اور اس فعل کی پوری پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے کر یہ ثابت کر دیا کہ اس میں کوئی دھو کے وغیرہ کا سوال نہیں ہے اور یہودیوں کو یہ بات واضح طور پر بتادی کہ فلاں فلاں خطرناک جرموں کی بنا پر کعب کے متعلق یہ سزا تجویز کی گئی تھی جو میرے حکم سے جاری کی گئی ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ اس موقعے پر آنحضرت علی ال یکم نے اپنے اصحاب کو جھوٹ اور فریب کی اجازت دی۔سو یہ بالکل غلط ہے اور صحیح روایات اس کی مکذب ہیں۔آنحضرت صلی لی ہم نے قطعاً جھوٹ اور غلط بیانی کی اجازت نہیں دی بلکہ بخاری کی روایت کے بموجب جب محمد بن مسلمہ نے آپ سے یہ دریافت کیا کہ کعب کو خاموشی کے ساتھ قتل کرنے کے لیے تو کوئی بات کہنی پڑے گی تو آپ نے ان عظیم الشان فوائد کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو خاموش سزا کے محرک تھے جواب میں صرف اس قدر فرمایا کہ ہاں اور اس سے زیادہ اس موقعے پر آپ کی طرف سے یا محمد بن مسلمہ کی طرف سے قطعا کوئی تشریح یا توضیح نہیں ہوئی۔آنحضرت صلی الی کم کا صرف یہ مطلب تھا کہ محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی جو کعب کے مکان پر جا کر اسے باہر نکال کر لائیں گے تو اس موقعے پر انہیں لازما کوئی ایسی بات کہنی ہو گی جس کے نتیجے