اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 353

353 274 اصحاب بدر جلد 5 حضرت محرز بن نضلہ نام و نسب و کنیت ان کی ولدیت نضلة بن عبد اللہ ہے جبکہ دوسرے قول کے مطابق آپ کے والد کا نام وھب تھا۔آپ کی کنیت ابونضلة تھی۔آپ گورے اور خوبصورت چہرہ والے تھے۔آپ کا لقب فُهَيرة تھا۔آپ الخرم کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔آپ بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔جبکہ بنو عبد الاشهل انہیں اپنا حلیف بتاتے ہیں۔مُخرِز یا آخرم دونوں نام آپ کے ہیں۔حضرت محرز کا تعلق مکہ کے قبیلہ بنو غنم بن دُوْدَان سے تھا۔یہ قبیلہ مسلمان ہو گیا تھا۔مدینہ کی طرف ہجرت ย اس قبیلے کے مردوں اور عورتوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی توفیق ملی۔ان مہاجرین میں حضرت مُخرِزُ بن نَضْله بھی شامل تھے۔واقدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم بن اسماعیل کو سناوہ کہتے تھے کہ يَوْمُ الشَّرح، یہ غزوہ ذی قرد اور غَزْوَةُ الْغَابَہ کا نام ہے جو 6 ہجری میں ہوا تھا، میں سوائے حضرت مُحرِزُ بن نَضْلَه ” کے بنو عبدالا شھل کے گھر سے کوئی اور نہیں نکالا۔وہ حضرت محمد بن مسلمہ کے گھوڑے پر سوار تھے جس کا نام دو اللہ تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت مُحرِ بن نَضْله اور حضرت عمارہ بن حزم کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا تھا۔واقدی کے نزدیک آپ غزوہ بدر، غزوہ احد اور غزوہ خندق میں شریک ہوئے تھے۔صالح بن کیسان سے مروی ہے کہ حضرت مُحرِزُ بن نَضلہ نے بتایا کہ میں نے خواب میں ور لے آسمان کو دیکھا کہ وہ میرے لیے کھول دیا گیا ہے یہاں تک کہ میں اس میں داخل ہو گیا اور ساتویں آسمان تک پہنچ گیا۔پھر سِدرَةُ المُنعطی تک چلا گیا۔مجھ سے کہا گیا یہ تمہاری منزل ہے۔حضرت مخرز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر صدیق کے سامنے یہ خواب بیان کیا جو فن تعبیر کے ماہر تھے تو آپ نے فرمایا کہ شہادت کی خوشخبری ہو! پھر ایک روز آپ شہید کر دیئے گئے۔آپ رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ یوم الشرح میں غَزْوَةُ الْغَابہ کے لیے روانہ ہوئے، یہ غزوہ ذی قرد بھی کہلاتا تھا جو 6 ہجری میں ہوا۔عمر و بن عثمان بخشی اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت محرز بن نَضلہ جب غزوہ بدر میں شال ہوئے تو آپ 31 تا 32 سال کے تھے اور جب آپ شہید ہوئے تو 37 یا 38 سال کے قریب تھے۔58 858