اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 330
اصحاب بدر جلد 5 330 کہ جو رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ ہدایت اس پر روشن ہو چکی ہو اور مومنوں کے طریق کے سوا کوئی اور طریق اختیار کرے تو ہم اسے اسی جانب پھیر دیں گے جس جانب وہ مڑ گیا ہے اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بر اٹھکانہ ہے۔یقینا اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور جو اس کے سوا ہے معاف کر دیتا ہے جس کے لیے چاہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو وہ یقینا دور کی گمراہی میں بہک گیا۔جب یہ اس مشرک شلاقہ کے پاس جاکر ٹھہرا اور اسلام سے ہٹ گیا تو حضرت حسان بن ثابت نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی۔یہ سن کر وہ یعنی سُلافہ بنت سعد جو تھی اس کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی اور پھر اس نے کہا کہ تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے یعنی اس نے یہ ہجو لکھی ہے اور تمہاری وجہ سے لکھی گئی ہے ہم بھی اس میں شامل ہو گئے۔تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں۔784 اس لیے میں تمہار ا سامان نہیں رکھوں گی۔تو یہ منافق کا یا پھر مشرک کا انجام ہوا۔ساری رات سورت اخلاص پڑھتے رہے پھر حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان نے ایک مر تبہ سورۂ اخلاص ہی پر ساری رات گزار دی۔ساری رات سورت اخلاص پڑھتے رہے۔نبی کریم صلی اللی کم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی للی کم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم !جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! سورۃ اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔785 جو آگے یہ کہتے ہیں وہ یہی بات کی تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت جو ہے وہی تو حقیقی قرآن ہے اور قرآن کریم میں اسی کی تعلیم ملتی ہے۔جمعے کے دن قبولیت دعا کی ایک گھڑی ابوسلمہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ہم سے رسول اللہ صلی نیلم کی حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جمعے کے دن ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی مسلمان کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔اور حضرت ابو ہریرہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر حال بیان فرمایا کہ بہت چھوٹی سی ہے۔جب حضرت ابو ہریرہ کی وفات ہوئی تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا اگر میں حضرت ابو سعید خدری کے پاس گیا تو ان سے اس گھڑی کے متعلق ضرور پوچھوں گا۔ہو سکتا ہے انہیں اس کا علم ہو۔چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا وہ چھڑیاں سیدھی کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابو سعید ا یہ کیسی چھڑیاں ہیں جو آپ سیدھی کر رہے ہیں ؟ جو سوئیاں تھیں وہ میں آپ کو سیدھی کرتے دیکھ رہا ہوں۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ چھڑیاں ہیں جن میں اللہ