اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 327

اصحاب بدر جلد 5 327 آتا، پیساہوا ابار یک آنا تو وہ مال دار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا۔لیکن اس کے بال بچے جو تھے وہ کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے تھے۔کہتے ہیں ایک بار ایسا ہوا کہ جب ایک غلے کا تاجر شام سے آیا تو میرے چار فاعہ بن زید نے میدے کی، سفید آٹے کی ایک بوری خریدی اور اسے اپنے گودام میں رکھ دیا۔اس گودام میں ہتھیار اور زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی، اسلحہ بھی رکھا ہوا تھا۔کہتے ہیں ان پر ظلم یہ ہوا کہ اس گودام میں نقب لگائی گئی اور دیوار توڑ کے اندر چور آگئے اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرالیا گیا۔صبح کے وقت میرے چار فاعہ میرے پاس آئے اور کہا کہ میرے بھتیجے! آج کی رات تو میرے پر بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ہمارے گودام میں نقب لگائی گئی ہے۔ہمار اراشن اور ہمارے ہتھیار سب کچھ چرا لیے گئے ہیں۔ہم نے محلے میں پتا لگانے کی کوشش کی ہے اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنو ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلار کبھی تھی اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر وہ جشن منارہے ہوں گے یعنی چوری کا مال پکا کر کھا رہے ہوں گے۔جب ہم محلے میں پوچھ کچھ کر رہے تھے تو بنو بیرق نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہمیںتو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، کسی اور کا نام لگا دیا۔کہتے ہیں کہ لبید ہم میں سے ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے۔جب لبید نے یہ سنا کہ بنو ابیرق اس پہ چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی اور کہا کہ میں چور ہوں؟ اللہ کی امیری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتا لگا کر دو گے۔بڑے غصے میں کہا کہ اب یہ فیصلہ ہو گا۔لوگوں نے کہا کہ جناب آپ اپنی تلوار دور رکھیں۔آپ چور نہیں ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ بڑے نیک آدمی ہیں۔ہم نے محلے میں مزید پوچھ گچھ کی تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ وہی بنوا بیر ق چور ہیں۔میرے چچا نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی علی کیم کے پاس جاتے اور آپ سے اس حادثے کا ذکر کرتے تو ہو سکتا ہے میر امال مجھے مل جاتا۔حضرت قتادہ بن نعمان کہتے ہیں کہ میں یہ بات سن کر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔انہوں نے میرے چار فاعہ بن زید کے گھر کا رخ کیا ہے اور ان کے گودام میں نقب لگا کر ان کے ہتھیار اور ان کا راشن چرالیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔جہاں تک راشن یا غلے کا تعلق ہے تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔نبی اکرم صلی الیم نے فرمایا کہ میں اس بارے میں مشورے کے بعد کوئی فیصلہ دوں گا۔جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے۔اس شخص کو آسیمیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات کی اور محلے کے مچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے اور ان سب نے رسول اللہ صلی لیلی کیم کے پاس پہنچ کر کہا کہ اے اللہ کے رسول ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہمیں لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور اچھے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آیا، آپ سے بات چیت کی۔آپ صلی علیم نے فرمایا تم نے ایک ایسے گھر والوں پر چوری کرنے کا الزام عائد کیا ہے جن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں اور تمہارے پاس کوئی گواہ اور ثبوت بھی نہیں ہے۔قتادہ کہتے ہیں میں آپ کے پاس سے واپس آ