اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 304

اصحاب بدر جلد 5 ان کی کنیت ابو یقطان تھی۔304 714 ان کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخ کی کتابوں سے اخذ کر کے لکھا ہے کہ “ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمار نامی غلام کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ سسکیاں لے رہے تھے اور آنکھیں پونچھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا عمار! کیا معاملہ ہے ؟ عمار نے کہا اے اللہ کے رسول ! بہت ہی بُرا۔وہ مجھے مارتے گئے یعنی دشمن مارتے گئے اور دکھ دیتے گئے اور اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میرے منہ سے آپ کے خلاف اور دیوتاؤں کی تائید میں کلمات نہیں نکلوالئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لیکن تم اپنے دل میں کیا محسوس کرتے تھے ؟ عمار نے کہا دل میں تو ایک غیر متزلزل ایمان محسوس کرتا تھا۔گو منہ سے میں نے آپ کے خلاف کہہ دیا لیکن دل میں میرے ایمان تھا۔“ آپ نے فرمایا اگر دل ایمان پر مطمئن تھا تو خدا تعالیٰ تمہاری کمزوری کو معاف کر دے گا۔715 حضرت عمار بن یاسر کی ہجرت حبشہ کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض کا خیال ہے کہ آپ ہجرت حبشہ ثانیہ میں شریک تھے۔716 حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں ہونے والی شورش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ ثانی بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ شورش حد سے بڑھنے لگی اور صحابہ کرام کو بھی ایسے خطوط ملنے لگے جن میں گورنروں کی شکایات درج ہوتی تھیں تو انہوں نے مل کر حضرت عثمان سے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جو رپورٹیں مجھے آتی ہیں وہ تو خیر و عافیت ہی ظاہر کرتی ہیں۔صحابہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس اس مضمون کے خطوط باہر سے آتے ہیں اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔حضرت عثمان نے اس پر ان سے مشورہ طلب کیا کہ تحقیق کس طرح کی جاوے اور ان کے مشورہ کے مطابق اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف، محمد بن مسلمہ کو کوفہ کی طرف، عبد اللہ بن عمر کو شام کی طرف، عمار بن یاسر کو مصر کی طرف بھیجا کہ وہاں کے حالات کی تحقیق کر کے رپورٹ کریں کہ آیا واقع میں امر اور عیت پر ظلم کرتے ہیں اور تعدی سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار لیتے ہیں اور ان چاروں کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی متفرق بلاد کی طرف بھیجے تا کہ وہاں کے حالات سے اطلاع دیں۔لوگ گئے اور تحقیق کے بعد واپس آکر ان سب نے رپورٹ کی کہ سب جگہ امن ہے اور مسلمان بالکل آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کو کوئی تلف نہیں کرتا اور حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں۔مگر عمار بن یاسر نے دیر کی اور ان کی کوئی خبر نہ آئی۔ان کی طرف سے خبر آنے میں اس قدر دیر ہوئی کہ اہل مدینہ نے خیال کیا کہ کہیں مارے گئے ہیں مگر اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنی سادگی اور سیاست سے ناواقفیت کی وجہ سے اُن مفسدوں کے پنجہ میں پھنس گئے تھے جو عبد اللہ بن سبا کے شاگر دتھے۔717