اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 301

اصحاب بدر جلد 5 301 صحبت میسر فرما۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابو ہریرۃ کی صحبت میسر فرمائی۔حضرت ابوہریرۃ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ میں نے کہا میرا تعلق سر زمین کوفہ سے ہے۔میں علم اور بھلائی لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔حضرت ابوہریرۃ نے کہا کہ کیا تمہارے ہاں مُجاب الدعوة (جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) حضرت سعد بن ابی وقاص، رسول اللہ صلی علیکم کا پانی اور نعلین اٹھانے والے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، رسول اللہ صلی علیم کے رازدان حضرت حذیفہ بن یمان، اور عمار بن یاسر جن کے بارے میں رسول اللہ صلی علیم کی زبان مبارک سے یہ فرمان جاری ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان سے پناہ دے رکھی ہے ، اور دو کتابوں انجیل اور قرآن کا علم رکھنے والے حضرت سلمان موجود نہیں ہیں ؟ 703 آپ نے یہ بات بیان فرمائی کہ جب یہ لوگ ہیں تو تم نے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔محمد بن علی بن حنفیه بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رسول اللہ صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس وقت آپ صلی علیہ کم بیمار تھے۔رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت عمار سے فرمایا کیا میں تمہیں وہ دم سکھاؤں جو جبرئیل نے مجھ پر کیا ہے ؟ حضرت عمار کہتے ہیں کہ میں نے کہا جی یار سول اللہ ! کہتے ہیں کہ تب رسول اللہ صلی علیم نے ان کو یہ دم سکھایا کہ بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ وَاللهُ يَشْفِيْكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ تؤذيك کہ میں اللہ کے نام سے شروع کر کے تمہیں دم کرتا ہوں اور اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے شفادے جو تمہیں تکلیف دے۔تم اسے پکڑ لو اور خوش ہو جاؤ۔704 حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جنت حضرت علی اور حضرت عمار اور حضرت سلمان اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مشتاق ہے۔705 حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی علی کیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کتنی دیر رہوں گا۔نپس تم میرے بعد ان لوگوں کی اقتدا کرنا۔آپ نے ابو بکر اور عمر کی جانب اشارہ فرمایا۔اور عمار کے طریق کو اپنانا۔اور جو تمہیں ابن مسعودؓ بیان کریں ان کی تصدیق کرنا۔706 قرآن کریم اور دین کا علم سیکھو۔مرکز سے ہمیشہ رابطہ رکھو حضرت عمار کے تعلق سے ہی گزشتہ ہفتہ میں ذکر ہوا تھا کہ حضرت عمار مفسدین کے دھو کہ میں آ گئے تھے۔جب حضرت عثمان نے انہیں گورنر کی تحقیق کرنے کے لئے بھیجا تھا تو آپ مفسدین کے گروہ کے پاس چلے گئے اور پوری طرح تحقیق نہیں ہوئی۔تو اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ حضرت عثمان کے خلاف جو فساد پیدا ہوا اور خلافت کے خلاف جو ساری باتیں پیدا ہوئیں تو یہ اس وجہ سے پیدا ہوئیں کہ ان لوگوں کی تربیت صحیح نہیں تھی اور