اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 277

اصحاب بدر جلد 5 277 12 - غُوَيْم بن سَاعِدہ یہ اوس قبیلے کے بنی عمر و بن عوف سے تھے۔آنحضرت صل لم لو گوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں ان بارہ افراد سے ملے تھے۔انہوں نے یثرب کے حالات سے اطلاع دی اور اب کی دفعہ سب نے با قاعدہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ بیعت مدینہ میں اسلام کے قیام کی بنیاد، قیام کا بنیادی پتھر ہے۔اس سے بنیاد پڑی۔چونکہ اب تک جہاد بالسیف فرض نہیں ہو ا تھا اس لئے آنحضرت صلی علیم نے ان سے صرف ان الفاظ میں بیعت لی تھی جن میں آپ جہاد فرض ہونے کے بعد عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے یعنی یہ کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مر تکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔کسی بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپ کی اطاعت کریں گے۔بیعت کے بعد آنحضرت صل اللی علم نے فرمایا کہ اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ جس طرح چاہیے گا کرے گا۔یہ بیعت تاریخ میں بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ وہ جگہ جہاں بیعت لی گئی تھی عقبہ کہلاتی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان واقع ہے۔عقبہ کے لفظی معنی بلند پہاڑی رستے کے ہیں۔مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے ان بارہ کو مسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلم ہمارے ساتھ بھیجا جائے جو ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔آپ نے مُصعب بن محمیر کو جو قبیلہ عبد الدار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مقری کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سنانا تھا کیونکہ یہی تبلیغ کا ایک بہترین ذریعہ تھا۔چنانچہ مصعب بھی یثرب گئے تو یثرب میں مقری کے نام سے مشہور ہو گئے۔بیعت عقبہ ثانیہ جو تھی یہ 13 نبوی میں ہوئی تھی اور اس میں ستر انصار نے بیعت کی تھی۔تمام غزوات میں شرکت حضرت عقبہ بن عامر نے غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی علی نام کے ہمراہ شرکت کی۔آپ غزوہ اُحد کے دن خود میں سبز رنگ کے کپڑے کی وجہ سے پہچانے جارہے تھے۔آپ حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں بارہ ہجری میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔3 آنحضرت صلی الہ وسلم کی سکھائی ہوئی ایک دعا 623 622 حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ ابھی وہ نو عمر لڑکا تھا۔میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے بیٹے کو دعائیں سکھائیں جن کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرے اور اس پر شفقت فرمائیں۔آپ نے فرمایا اسے لڑکے ! کہو کہ اللهم إني اسئلك صحةً فِي ايْمَانٍ وَايْمَانًا فِي حُسْنٍ خُلُقٍ وَصَلَاحًا