اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 267

اصحاب بدر جلد 5 267 603 صحرائی جھاڑیاں بھی بہت زیادہ تعداد میں تھیں۔اسے جنت البقیع بھی کہا جاتا ہے۔جنت کے لفظ کا عربی میں ایک مطلب ہے باغ یا فردوس۔اس لیے یہ جگہ زیادہ تر عجمی زائرین میں جنت البقیع کے نام سے جانی جاتی ہے۔عبد الحمید قادری صاحب ہیں انہوں نے یہ تفصیل لکھی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عرب عموماً اپنے مقابر اور قبرستانوں کو جنت ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔اس کا ایک نام مقابر البقیع بھی ہے جو اعرابیوں میں زیادہ مشہور ہے۔3 جو صحرا کے رہنے والے تھے ان میں یہ زیادہ مشہور ہے۔حضرت سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی فوت ہو جاتا تو رسول اللہ صلی للی کرم فرماتے اس کو آگے گئے ہوئے بندوں کے پاس بھیج دو۔عثمان بن مظعون میری امت کا کیا ہی اچھا پیش رو تھا۔حضرت عثمان بن مظعون کی وفات پر انہیں بوسہ دینا 604 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی ال یکم ان کی نعش کے پاس آئے۔آپ ان پر تین بار جھکے اور سر اٹھایا اور بلند آواز سے فرمایا اے ابو سائب! اللہ تم سے درگزر کرے۔تم دنیا سے اس حال میں گئے کہ دنیا کی کسی چیز سے آلودہ نہیں ہوئے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی الم نے حضرت عثمان بن مظعون کی نعش کو بوسہ دیا جبکہ آپ رو رہے تھے۔اس وقت رسول اللہ صلی علیکم دور ہے تھے اور آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور نے حضرت عثمان کی وفات کے بعد آپ کو بوسہ دیا۔کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی علیکم کے آنسو حضرت عثمان کے رخسار پہ یہ رہے تھے، اتنے زیادہ تھے کہ پھر وہ آنسو پہ کر حضرت عثمان کے رخساروں پر بھی گرنے لگے۔جب رسول اللہ صلی اللی علم کے بیٹے ابراہیم نے وفات پائی تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا۔الحق بِالسَّلْفِ الصَّالِحِ عُثْمَانَ بْنَ مَطْعُون یعنی سلف صالح عثمان بن مظعون سے جاکر مل جاؤ۔15 نماز جنازہ پر زائد تکبیرات 605 حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی یہی ہم نے حضرت عثمان بن مظعون کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔606 بعض لوگ کہتے ہیں کہ تین سے زیادہ نہیں ہو سکتیں۔چار تکبیرات بھی ہو سکتی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ ان کا خود پتھر اٹھا کر قبر کے سرہانے رکھنا مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی۔ان کا جنازہ نکالا گیا پھر ان کو دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی ا لی ایم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ ایک پتھر لائے۔وہ پتھر نہ اٹھا سکا، بڑا بھاری پتھر تھا تو رسول اللہصلی الل علم اس کی طرف کھڑے ہوئے، ادھر گئے۔آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ،