اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 253
اصحاب بدر جلد 5 578 253 حضرت عُتبہ بن مسعودؓ کی حضرت عمر بن خطاب کے دورِ خلافت میں 23 ہجری میں مدینے میں وفات ہوئی اور حضرت عمرؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔قاسم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عقبہ بن مسعودؓ کی نماز جنازہ میں ان کی والدہ حضرت ام عبد کا انتظار کیا کہ وہ بھی شامل ہو جائیں۔امام زہری سے منقول ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ صحبت اور ہجرت کے لحاظ سے اپنے بھائی حضرت عُتبہ سے زیادہ قدیم نہ تھے۔یعنی حضرت عُتبہ بن مسعودؓ زیادہ پرانے صحابی تھے۔عبد اللہ بن عُتبہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عُتبہ بن مسعودؓ کا انتقال ہوا تو آپ کے بھائی حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔بعض لوگوں نے آپ سے کہا کہ کیا آپ روتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرے بھائی تھے اور رسول اللہ صلی علیم کے ہاں میرے ساتھی تھے اور حضرت عمر بن خطاب کے علاوہ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب تھے۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس ان کے بھائی حضرت عتبہ بن مسعودؓ کی وفات کی خبر پہنچی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ : إِنَّ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ لَا يَمْلِكُهَا ابْنُ آدَم کہ یقینا یہ رحمت ہے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اور ابنِ آدم اس کو قابو کرنے پر قادر نہیں۔یعنی یہ موت برحق ہے اور نیک لوگوں کے لیے تو پھر رحمت بن جاتی ہے۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب حضرت عُتبہ بن مسعودؓ کو امیر مقامی بھی بنایا کرتے تھے۔581 580 579 232 نام و نسب و کنیت حضرت عثمان بن مظعون حضرت عثمان بن مظعون۔ان کی کنیت ابو سائب تھی۔حضرت عثمان کی والدہ کا نام شخیلہ بنت عنبس تھا۔حضرت عثمان اور آپ کے بھائی حضرت قدامہ حلیے میں باہم مشابہت رکھتے تھے۔آپؐ کا تعلق قریش کے خاندان بنو مجمیع سے تھا۔قبول اسلام 582 حضرت عثمان بن مظعون کے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح ملتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علیہ کی مکہ میں اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے۔