اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 250

اصحاب بدر جلد 5 250 بہر حال ان لوگوں کے بارے میں دوسری جگہ مزید تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ یہ لوگ دن کو بارگاہِ نبوت میں حاضر رہتے اور حدیثیں سنتے۔رات کو ایک چبوترے پر پڑے رہتے۔عربی زبان میں چبوترے کو صفہ کہتے ہیں اور اسی بنا پر ان بزرگوں کو اصحاب صفہ کہا جاتا ہے۔ان میں سے کسی کے پاس چادر اور نہ بند دونوں چیزیں کبھی ایک ساتھ جمع نہ ہو سکیں۔چادر کو گلے سے اس طرح باندھ لیتے تھے کہ رانوں تک لٹک آتی تھی، کپڑے پورے نہیں ہوتے تھے۔حضرت ابوہریرہ انہی بزرگوں میں سے تھے۔ان کا بیان ہے کہ میں نے اہل صفہ میں سے ستر اشخاص کو دیکھا کہ ان کے کپڑے ان کی رانوں تک بھی نہیں پہنچتے تھے ، جسم پر کپڑا لپیٹتے تھے تو وہ گھٹنوں سے اوپر مشکل سے پہنچتا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ معاش کا طریقہ یہ تھا کہ ان میں ایک ٹولی دن کو جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی اور بیچ کر اپنے بھائیوں کے لیے کچھ کھانا مہیا کرتی۔اکثر انصار کھجور کی شاخیں توڑ کر لاتے اور مسجد کی چھت میں لٹکا دیتے۔باہر کے لوگ آتے اور ان کو دیکھتے تو سمجھتے کہ یہ دیوانے ہیں۔بے وقوف لوگ ہیں۔بلاوجہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔یا یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ یہ آنحضرت صلی اللی علم کے ایسے دیوانے ہیں کہ آپ کا در چھوڑنا نہیں چاہتے۔بہر حال آنحضرت صلی یکم کے پاس کہیں سے صدقہ آتا تو آپ کئی ملی کام ان کے پاس بھیج دیتے اور جب دعوت کا کھانا آتا تو ان کو بلا لیتے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے۔اکثر ایسا ہوتا کہ راتوں کو آنحضرت صلی علم ان کو مہاجرین و انصار پر تقسیم کر دیتے یعنی اپنے مقدور کے موافق ہر شخص ایک ایک دو دو اپنے ساتھ لے جائے اور رات کو ان کو کھانا کھلائے۔بعض دفعہ ایسے موقعے بھی ہوتے تھے کہ کسی کو بعض مہاجرین کے سپر د کر کسی کو انصار کے سپر د کر دیا کہ رات کا کھانا ان کو دینا ہے۔حضرت سعد بن عبادہ ایک صحابی تھے جو نہایت فیاض اور دولت مند تھے وہ کبھی کبھی اتنی اتنی مہمانوں کو اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔اسٹی مہمانوں تک ساتھ لے جاتے۔رات کو ان کو کھانا کھلاتے تھے۔ان کی کشائش تھی۔مختلف روایتوں کے مطابق یا بعض روایتوں کے مطابق اہل صفہ کی تعداد مختلف وقتوں میں مختلف رہی تھی۔کم سے کم بارہ افراد اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہاں تک کہ تین سو افراد ایک وقت مقام صفہ میں مقیم رہے تھے بلکہ ایک روایت میں ان کی کل تعداد چھ سو صحابہ کرام بتائی گئی ہے۔آنحضرت صلی ایم کو ان کے ساتھ نہایت اُنس تھا۔ان کے ساتھ مسجد میں بیٹھتے۔ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور لوگوں کو ان کی تعظیم و تکریم پر آمادہ کرتے۔یعنی یہ نہیں کہ یہ بیٹھے ہوئے ہیں، فارغ ہیں تو ان کی عزت نہ کی جائے، ان کا احترام نہ کیا جائے بلکہ آنحضرت صلی للی یکم فرمایا کرتے تھے کہ یہ لوگ ہیں جو میرے لیے، میری باتیں سننے کے لیے بیٹھتے ہیں اس لیے ہر ایک کو ان کی صحیح طرح تعظیم بھی کرنی چاہیے ، عزت بھی کرنی چاہیے۔ایک بار اہل صفہ کی ایک جماعت نے بارگاہ نبوی صلی اللہ یلم میں شکایت کی کہ کھجوروں نے ہمارے پیٹ کو جلا دیا ہے۔صرف کھجوریں ہی کھانے کو ملتی ہیں اور تو کچھ ملتا نہیں۔رسول اللہ صلی ال کلیم نے ان کی شکایت سنی تو ان کی دل دہی کے لیے ایک تقریر کی جس میں فرمایا: یہ کیا ہے دیا۔