اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 240

240 اصحاب بدر جلد 5 مسلمانوں کو مدینہ کے مسلمانوں میں آملنے کا موقع مل جائے کیونکہ ابھی تک مکے کے علاقے میں کئی لوگ ایسے موجود تھے جو دل سے مسلمان تھے مگر قریش کے مظالم کی وجہ سے اپنے اسلام کا بر ملا اظہار نہیں کر سکتے تھے اور نہ اپنی غربت اور کمزوری کی وجہ سے ان میں ہجرت کی طاقت تھی کیونکہ قریش ایسے لوگوں کو ہجرت سے جبراً روکتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجُنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا ۚ وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا (النساء: 76) یعنی اے مومنو کوئی وجہ نہیں کہ تم لڑائی نہ کرو اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے اور ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر جو کمزوری کی حالت میں پڑے ہیں اور دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! نکال ہم کو اس شہر سے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہم ناتوانوں کے لیے اپنی طرف سے کوئی دوست اور مددگار عطا فرما۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قوم سے چھٹکارا پانے کا موقع مل جاوے۔یعنی ایسے لوگ قریش کے قافلوں کے ساتھ ملے ملائے مدینہ کے قریب پہنچ جائیں اور پھر مسلمانوں کے دستے کی طرف بھاگ کر مسلمانوں میں آملیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا دستہ ہی جو آنحضرت صلی امام نے عبیدہ بن الحارث کی سرداری میں روانہ فرمایا تھا اور جس کا عکرمہ بن ابو جہل کے ایک گروہ سے سامنا ہو گیا تھا اس میں مکے کے دو کمزور مسلمان جو قریش کے ساتھ ملے ملائے آگئے تھے قریش کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ اس مہم میں جب مسلمانوں کی پارٹی لشکرِ قریش کے سامنے آئی تو دو خص مقداد بن عمرو اور عُتبہ بن غزوان جو بنوزھرہ اور بنو نوفل کے حلیف تھے مشرکین میں سے بھاگ کر مسلمانوں میں آملے اور یہ دونوں شخص مسلمان تھے اور صرف کفار کی آڑ لے کر مسلمانوں میں آملنے کے لیے نکلے تھے۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک غرض آنحضرت صلی للہ نام کی یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قریش سے چھٹکارا پانے اور مسلمانوں میں آملنے کا موقع ملتار ہے۔چوتھی جو تدبیر تھی وہ آپ نے یہ اختیار فرمائی کہ آپ نے قریش کے ان تجارتی قافلوں کی روک تھام شروع فرما دی جو کمکے سے شام کی طرف آتے جاتے ہوئے مدینے کے پاس سے گزرتے تھے۔کیونکہ پہلی بات تو یہ کہ یہ قافلے جہاں جہاں سے گزرتے تھے مسلمانوں کے خلاف عداوت کی آگ لگاتے جاتے تھے اور ظاہر ہے کہ مدینے کے گردو نواح میں اسلام کی عداوت کا تنم بو یا جانا مسلمانوں کے لیے نہایت خطر ناک تھا۔دوسرے یہ کہ یہ قافلے ہمیشہ مسلح ہوتے تھے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے قافلوں کا مدینے سے اس قدر قریب ہو کر گزرنا ہر گز خطرے سے خالی نہیں تھا۔اور تیسری بات یہ کہ قریش کا