اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 239

239 اصحاب بدر جلد 5 ہو سکیں۔رسول اللہ صلی الم نے حضرت عبیدہ بن حارث کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک لشکر ثَنِيَّةُ الْمَرَةُ، یہ رابغ شہر کے شمال مشرق میں تقریباً 55 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور مدینہ منورہ سے اس کا فاصلہ تقریباًدو سوکلو میٹر ہے۔یہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔آنحضرت صلی الم نے یہ لشکر روانہ فرمایا۔قریش کے لشکر کی قیادت عکرمہ بن ابو جہل کر رہا تھا۔ان دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی نہ ہوئی سوائے ایک تیر کے جو حضرت سعد بن ابی وقاص نے چلایا تھا اور وہ خدا کی راہ میں پہلا تیر تھا جو رض 558 چلایا گیا۔اس روز عُتبہ بن غزوان اور حضرت مقداد بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ جاملے۔یہ اس قافلے میں آئے تو کافروں کے ساتھ تھے لیکن جیسا کہ پہلے حضرت مقداد کے بارے میں ذکر ہو چکا ہے یہ ادھر آگئے۔آنحضرت صلی ا لم کی مدافعانہ کارروائیاں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں تاریخی کتب سے لے کے جہاد بالسیف کا آغاز اور آنحضرت صلی علی یم کی مدافعانہ کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت میں پہلی قرآنی آیت بارہ صفر 2 ہجری کو نازل ہوئی۔یعنی دفاعی جنگ کے اعلان کا جو خدائی اشارہ ہجرت میں کیا گیا تھا اس کا باضابطہ اعلان صفر 2 ہجری کو کیا گیا جبکہ آنحضرت صلی کم قیام مدینہ کی ابتدائی کارروائیوں سے فارغ ہو چکے تھے اور اس طرح جہاد کا آغاز ہو گیا۔تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ کفار کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آنحضرت صلی علی یم نے ابتداء چار تدابیر اختیار کی تھیں جو آپ کی اعلیٰ سیاسی قابلیت اور جنگی دور بینی کی ایک دلیل ہے، بڑی کھلی دلیل ہے اور وہ تدابیر یہ تھیں: پہلی یہ کہ آپ نے خود سفر کر کے آس پاس کے قبائل کے ساتھ باہمی امن وامان کے معاہدے کرنے شروع کیے تا کہ مدینے کے ارد گرد کا علاقہ خطرے سے محفوظ ہو جائے۔اس امر میں آپ نے خصوصیت کے ساتھ ان قبائل کو مد نظر رکھا جو قریش کے شامی رستے کے قرب وجوار میں آباد تھے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے یہی وہ قبائل تھے جن سے قریش مکہ مسلمانوں کے خلاف زیادہ مدد لے سکتے تھے اور جن کی دشمنی مسلمانوں کے واسطے سخت خطرات پیدا کر سکتی تھی۔دوم: دوسرا قدم آپ نے یہ اٹھایا کہ آپ نے چھوٹی چھوٹی خبر رساں پارٹیاں مدینے کے مختلف جہات میں روانہ کرنی شروع فرمائیں تا کہ آپ کو قریش اور ان کے حلیفوں کی حرکات و سکنات کا علم ہو تا رہے اور قریش کو بھی یہ خیال رہے کہ مسلمان بے خبر نہیں ہیں اور اس طرح مدینہ اچانک حملوں کے خطرات سے محفوظ ہو جائے۔مدینہ پہنچنے کے بعد تیسر اقدم آنحضرت علی تم نے اس وقت یہ اٹھایا کہ ان پارٹیوں کے بھجوانے میں آپ کی ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس کے ذریعہ سے مکہ اور اس کے گردونواح کے کمزور اور غریب