اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 229

اصحاب بدر جلد 5 229 حضرت عبیدہ آنحضور صلی ایم کے نزدیک خاص قدر و منزلت رکھتے تھے۔حضرت عبیدہ بن حارث نے ابتدا میں اسلام قبول کیا اور آپ بنو عبد مناف کے سرداروں میں سے تھے۔535 ہجرت مدینہ اور مواخات حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے دو بھائیوں حضرت طفیل بن حارث اور حضرت محصین بن حارث کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت مسطح بن اثاثہ بھی تھے۔سفر سے پہلے کے پایا کہ یہ لوگ وادی ناج میں اکٹھے ہوں گے لیکن حضرت مسطح بن أثاثہ پیچھے رہ گئے کیونکہ ان کو سانپ نے ڈس لیا تھا۔اگلے دن ان کو حضرت مسطح کے ڈسے جانے کی اطلاع ملی لہذا یہ لوگ واپس گئے اور انہیں ساتھ لے کر مدینہ آگئے۔مدینہ میں یہ لوگ حضرت عبد الرحمن بن سلمہ کے ہاں ٹھہرے۔536 آنحضرت صلی ا لم نے حضرت عبیدہ بن حارث اور حضرت عمیر بن الحمام کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔حضرت عبیدہ بن الحارث اور حضرت عمیر بن الحمام دونوں غزوہ بدر میں شہید ہوئے۔537 ان کے دو بھائی حضرت طفیل بن حارث اور حضرت محصین بن حارث بھی غزوہ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔538 آنحضرت علی علم کی سیاسی بصیرت اور جنگی دور بینی نبی کریم صلی ا یکم نے مدینہ آکر کفار کے شر سے بچنے کے لئے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کچھ تدابیر اختیار فرمائیں جو آپ صلی علی ایم کی اعلیٰ سیاسی قابلیت اور جنگی دور بینی کی ایک بین دلیل ہے۔اسی کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح تحریر کیا ہے کہ : " تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا دستہ ہی جو آنحضرت صلی الم نے عبیدہ بن الحارث کی سرداری میں روانہ فرمایا تھا اور جس کا عکرمہ بن ابو جہل کے ایک گروہ سے سامنا ہو گیا تھا اس میں مکہ کے دو کمزور مسلمان جو قریش کے ساتھ ملے ملائے آگئے تھے ، قریش کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے تھے چنانچہ روایت آتی ہے کہ۔۔۔اس مہم میں جب مسلمانوں کی پارٹی لشکر قریش کے سامنے آئی تو دو شخص مقداد بن عمرو اور عقبہ بن غزوان جو بنو زہرہ اور بنو نوفل کے حلیف تھے مشرکین میں سے بھاگ کر مسلمانوں میں آملے اور یہ دونوں شخص مسلمان تھے اور صرف کفار کی آڑ لے کر مسلمانوں میں آملنے کے لئے نکلے تھے۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک غرض آنحضرت صلی اللہ علم کی یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قریش سے چھٹکارا پانے اور مسلمانوں میں آملنے کا موقعہ ملتا رہے۔" ہجرت کے آٹھ مہینے کے بعد رسول اللہ صلی علی یم نے حضرت عبیدہ بن حارث کو ساٹھ یا اسی سواروں کے ساتھ روانہ کیا۔رسول اللہ صلی علی ایم نے حضرت عبیدہ بن حارث کے لئے ایک سفید رنگ کا پرچم باندھا 53911