اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 219
219 اصحاب بدر جلد 5 راز کو نہیں سمجھتا تھا کہ اطاعت اور فرمانبرداری کی روح ہی دنیا میں قوموں کو کس طرح کامیاب کرتی ہے جب حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اس طرح چلتے دیکھا تو اس نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے۔وہ اس کو بیوقوفی سمجھ رہا تھا۔اس کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ قوموں کی ترقی کے لئے اصل چیز اطاعت ہے۔بہر حال اس نے اس کو کہا کہ رسول کریم صلی علیکم کا مطلب تو یہ تھا کہ مسجد میں جو لوگ کناروں پر کھڑے ہیں وہ بیٹھ جائیں مگر آپ گلی میں ہی بیٹھ گئے ہیں اور گھسٹتے ہوئے مسجد میں آئے ہیں۔آپ کو چاہئے تھا کہ جب مسجد پہنچتے تو اس وقت بیٹھتے، گلی میں بیٹھ جانے کا کیا فائدہ تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا ہاں ہو تو سکتا تھا لیکن اگر مسجد پہنچنے سے پہلے ہی میں مر جاتا تو رسول کریم صلی یکم کا یہ حکم میرے عمل میں نہ آتا اور کم سے کم ایک بات ایسی ضرور رہ جاتی جس پر میں نے عمل نہ کیا ہوتا۔اب یہ شوق تھا ان لوگوں کا کہ کوئی بات جو آنحضرت علی ایم کے منہ سے نکلے یہ نہ ہو کہ ہم اس پر عمل نہ کریں۔اس پر انہوں نے کہا میں نے یہ بات سنی اور مجھے یہ فکر پید اہوئی کہ اگر میں اس دوران مر جاتا تو پھر میرے نامہ اعمال میں کہیں یہ نہ لکھا جائے کہ یہ ایک آخری بات تھی جس پر تم نے سننے کے باوجو د عمل نہیں کیا۔تو بہر حال انہوں نے اس سے کہا کہ اس لئے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں چلتا ہوا آؤں اور پھر مسجد میں آکر بیٹھوں۔میں نے خیال کیا کہ زندگی کا کیا اعتبار ہے شاید میں مسجد میں پہنچوں یا نہ پہنچوں اس لئے ابھی بیٹھ جانا چاہئے تاکہ اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔یہ لوگ اتنی باریکی سے چیزوں کو دیکھنے والے تھے۔حضرت مصلح موعود مزید لکھتے ہیں کہ انہی عبد اللہ بن مسعود کا واقعہ ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ میں چار رکعتیں پڑھیں۔حج پر گئے ہوئے تھے ، قیام تھوڑا تھا، وہاں چار رکعتیں پڑھیں۔رسول کریم صلی علی یکم جب حج کے لئے تشریف لائے تھے تو آپ نے وہاں دور رکعتیں پڑھی تھیں کیونکہ مسافر کو دور کعت نماز پڑھنے کا ہی حکم ہے۔پھر حضرت ابو بکر اپنے زمانہ خلافت میں تشریف لائے تو آپ نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی حج کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے بھی دو ہی پڑھیں یعنی قصر نماز کا جہاں حکم ہے وہاں قصر کی مگر حضرت عثمان نے چار رکعتیں پڑھا دیں۔اس پر لوگوں میں ایک شور برپا ہو گیا، بڑا شور مچایا لوگوں نے اور انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان نے رسول کریم صلی علیم کی سنت کو بدل دیا ہے۔چنانچہ حضرت عثمان کے پاس لوگ آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ نے چار رکعتیں کیوں پڑھی ہیں ؟ حضرت عثمان نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ میں نے ایک اجتہاد کیا اور وہ یہ اجتہاد تھا کہ اب دور دور کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔بہت سے لوگ دور دور سے حج کے لئے بھی آنے لگ گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کو اب اسلامی مسائل اتنے معلوم نہیں جتنے پہلے لوگوں کو معلوم ہوا کرتے تھے۔اب وہ صرف ہمارے افعال کو دیکھتے ہیں۔وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم پرانے مسلمان کیا کر رہے ہیں ، اور جس رنگ میں وہ ہمیں