اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 201
اصحاب بدر جلد 5 201 451 دفن کرنے کا حکم دیتے۔نہ ان کو نہلایا گیا اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت یہ بھی بخاری کی روایت ہے جو میں نے پڑھی تھی) میں حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی یکم ایک دن تشریف لائے اور آپ صلی علیم نے غزوہ احد کے شہداء کا جنازہ پڑھا۔بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی علیم نے شہدائے احد کا جنازہ غزوہ احد کے آٹھ سال بعد پڑھا۔452 سنن ابن ماجہ میں بیان ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے شہداء کو رسول اللہ صل اللی کرم کی خدمت میں لایا جاتا اور آپ صلی ال یکم دس دس شہداء کا جنازہ پڑھتے اور حضرت حمزہ کی میت آپ صلی ایم کے پاس ہی موجود رہتی جبکہ باقی شہداء کو لے جایا جاتا۔453 455 سنن ابو داؤد میں بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے شہداء کو غسل نہیں دیا گیا اور ان کو ان کے خون یعنی زخموں سمیت دفنا دیا گیا اور ان میں سے کسی کی بھی نماز جنازہ نہیں ادا کی گئی۔454 سنن ابو داؤد ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے سوائے حضرت حمزہ کے اور کسی شہید کا جنازہ نہیں پڑھا۔5 سنن ترمذی کی روایت میں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے غزوہ احد کے شہداء کا جنازہ نہیں پڑھا۔456 سیرت ابن ہشام اور سیرت حلبیہ میں لکھا ہے کہ آنحضور صلی الیم نے احد کے شہداء کا جنازہ اس طرح ادا کیا کہ سب سے پہلے حضرت حمزہ کی نماز جنازہ ادا کی۔آپ نے نماز جنازہ میں سات تکبیرات کہیں۔سیرت حلبیہ کے مطابق چار تکبیریں کہیں۔اس کے بعد باقی شہداء کو ایک ایک کر کے لایا جاتا اور حضرت حمزہ کی میت کے ساتھ رکھا جاتا اور آپ ان دونوں کی نماز جنازہ ادا فرماتے اور اس طرح تمام شہداء کی نماز جنازہ ایک بار اور حضرت حمزہ کی نماز جنازہ بہتر بار اور بعض کے نزدیک بانوے بار ادا کی گئی۔457 458 سیرت کی ایک کتاب دلائل النبوہ میں لکھا ہے کہ حضرت حمزہ کی میت کے پاس نو شہداء کو اکٹھالایا جاتا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی جاتی۔پھر ان نو کو لے جایا جاتا اور مزید نوشہداء کو لایا جاتا اور اس طرح ان تمام شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور آپ نے ہر دفعہ نماز جنازہ میں سات تکبیرات کہیں۔سیرت حلبیہ اور دلائل النبوۃ میں غزوہ احد کے شہداء کی نماز جنازہ کی احادیث کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور ان دونوں کتب میں حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت کہ ”نبی کریم صلی یم نے غزوہ احد کے شہداء کو ان کے خونوں کے ساتھ ہی دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کو نہلایا گیا اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی کو زیادہ مضبوط قرار دیا ہے۔459