اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 198 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 198

اصحاب بدر جلد 5 198 پیش کرو۔چنانچہ بارہ آدمی تجویز کیے گئے جنہیں آپ نے منظور فرمایا اور انہیں ایک ایک قبیلہ کا نگران مقرر کر کے ان کے فرائض سمجھا دیے اور بعض قبائل کے لیے آپ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔بہر حال ان بارہ نقیبوں میں عبد اللہ بن عمرو کا نام بھی شامل تھا اور ان کو بھی آپ نے نقیب مقرر فرمایا۔442 443 ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ اُحد کے موقع پر جب عبد اللہ بن ابی بن سلول نے جو منافقین مدینہ کا سردار تھا غداری کی تو حضرت عبد اللہ بن عمرو نے ان لوگوں کو نصیحت کرنے کی کوشش کی۔13 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرت عبد اللہ بن عمر و اور ماموں غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے تو میری والدہ جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ پھوپھی جو حضرت عمرو بن جموح کی اہلیہ تھیں ان دونوں کو اونٹنی پر رکھ کر مدینہ لا رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی علیم کے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اپنے مقتولوں کو ان کے لڑنے کی جگہ پر دفناؤ۔اس پر ان دونوں کو واپس لے جایا گیا اور ان کے لڑنے کی جگہ پر ہی دفنا دیا گیا۔444 رسول الله علی ایم کی محبت میں سر اپار نگین ایک بہادر عورت صلى ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے موقعے پر اہل مدینہ میں خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ صلی ال یکم شہید ہو گئے ہیں۔یہ خبر سن کر مدینے میں آہ و بکا ہونے لگی اس پر انصار کی ایک عورت بھی اُحد کی طرف نکلی تو راستے میں اس نے اپنے والد ، بیٹے، خاوند اور بھائی کی نعشوں کو دیکھا۔راوی کہتے ہیں کہ یہ معلوم نہیں سب سے پہلے اس نے کسے دیکھا۔جب وہ ان میں سے کسی کے پاس سے گزرتی تو وہ کہتی یہ کون ہے ؟ لوگ کہتے تمہار اوالد ہے، تمہارا بھائی ہے ، تمہارا خاوند ہے، تمہارا بیٹا ہے۔وہ کہتی رسول اللہ صلی یی کم کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ آنحضور صلی لی کہ تمہارے سامنے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے کپڑے کا دامن پکڑ کر عرض کرنے لگی یا رسول اللہ صلی علیکم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب آپ صحیح سلامت ہیں تو مجھے کسی کی موت کی کوئی پروا نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع خلافت سے دو تین سال پہلے کی بات ہے جلسہ سالانہ میں آنحضرت صلی ا سیم کی سیرت اور غزوات پر تقریر کیا کرتے تھے وہاں حضرت عبد اللہ بن عمرو کے بارے میں جو ایک بیان کیا وہ بھی میں یہاں پڑھ دیتا ہوں۔فرمایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی بہن یعنی حضرت عمرو بن جموح کی اہلیہ بھی اپنے بھائی ہی کی طرح رسول اللہ صلی لیلی کام کی محبت میں سرا پار نگین تھیں۔خاوند اس جنگ میں شہید ہوا۔بھائی اس جنگ میں شہید ہوا۔بیٹا اس جنگ میں شہید ہوا لیکن آنحضور صلی اللی کم کی سلامتی کی خوشی ان سب غموں پر غالب آگئی۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ میں میدانِ جنگ کی طرف حالات معلوم کرنے جارہی تھی کہ راستے میں مجھے عمرو بن جموح کی بیوی ہند ایک اونٹ کی مہار 445