اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 5

اصحاب بدر جلد 5 5 دینے کے لیے اکٹھے ہوئے تو گھر میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہی تھے۔آپ کے چچا حضرت عباس اور حضرت علی، حضرت فضل بن عباس، حضرت قشم بن عباس، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت صالح شقران، آپ کے آزاد کردہ غلام۔اسی دوران گھر کے دروازے پر کھڑے بنو عوف بن خزرج کے حضرت اوس بن خولی انصاری جو بدر میں شامل تھے انہوں نے حضرت علی ہو پکار کر کہا اے علی ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارا حصہ بھی رکھنا۔حضرت علی نے ان سے فرمایا: اندر آ جاؤ۔چنانچہ وہ بھی داخل ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے موقع پر موجود تھے مگر انہوں نے غسل دینے میں شرکت نہیں کی۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض آپ پر ہی تھی اور حضرت عباس، فضل اور قشم حضرت علی کے ساتھ پہلو مبارک بدل رہے تھے اور حضرت اسامہ اور صالح شقران پانی ڈال رہے تھے اور حضرت علی آپ کو غسل دینے لگے۔21 علامہ بلاذری نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت شقران کے صاحبزادے عبد الرحمن بن شقران کو حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف روانہ کیا اور لکھا کہ میں تمہاری طرف ایک صالح آدمی عبد الرحمن بن صالح شقران، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، کو بھیج رہا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کے والد کے مقام کالحاظ رکھتے ہوئے اس سے سلوک کرنا۔22 ایک روایت ہے کہ علامہ بغوی کہتے ہیں کہ حضرت شقران نے مدینہ میں رہائش اختیار کی تھی اور آپ کا ایک گھر بصرہ میں بھی تھا۔23 حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں آپ کی وفات ہوئی۔24 ان کے خاندان کا آخری فرد ہارون الرشید کے عہد میں مدینہ میں فوت ہوا۔اسی طرح بصرہ میں بھی ان کے خاندان کا ایک شخص رہتا تھا۔مصعب کہتے ہیں کہ اس کی نسل آگے چلی یا نہیں اسکا مجھے علم نہیں۔25 حضرت صالح شقران سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گدھے پر سوار خیبر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔آپ اشارے سے نماز ادا فرمارہے تھے۔26 یعنی سواری پر بیٹھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سواری پر نماز ادا کی جاسکتی ہے کہ نہیں ؟27