اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 174

اصحاب بدر جلد 5 جنگ بدر میں امیہ بن خلف کا قتل 174 حضرت عبد الرحمن بن عوف کے اُمیہ بن خلف کے ساتھ پرانے دوستانہ تعلقات تھے۔اس کی بابت ایک تفصیلی واقعہ صحیح بخاری میں بیان ہوا ہے جس میں حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے امیہ بن خلف کو خط لکھا کہ وہ مکے میں میرے مال اور جائیداد کی حفاظت کرے اور میں اس کے مال و اسباب کی مدینہ میں حفاظت کروں گا۔جب میں نے اپنا نام عبد الرحمن لکھا تو امیہ نے کہا کہ میں عبد الرحمن کو نہیں جانتا۔تم مجھے اپنا وہ نام بتاؤ، وہ نام لکھو جو جاہلیت میں تھا۔کہتے ہیں کہ اس پر میں نے اپنا نام عبد عمر و لکھا۔جب وہ بدر کی جنگ میں تھا تو میں ایک پہاڑی کی طرف نکل گیا جبکہ لوگ سوچکے تھے تا میں اس کی حفاظت کروں تو بلال نے اسے کہیں دیکھ لیا چنانچہ حضرت بلال گئے اور انصار کی ایک مجلس میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ امیہ بن خلف ہے۔اگر یہ بیچ نکلا تو میری خیر نہیں۔اس پر حضرت بلال کے کچھ لوگ ہمارے یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف اور امیہ بن خلف کے تعاقب میں نکلے کیونکہ یہ اس کو بچانے کے لیے نکلے تھے، پناہ میں لینے کے لیے نکلے تھے۔کہتے ہیں کہ میں ڈرا کہ وہ ہمیں پالیں گے۔ہمیں پکڑ لیں گے اس لیے میں نے اس کے بیٹے کو اس کی خاطر پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑائی میں مشغول ہو جائیں یعنی بیٹے کے ساتھ وہ مسلمان لوگ جو پیچھے آرہے تھے لڑائی میں مشغول ہو جائیں اور ہم ذرا آگے نکل جائیں۔میں ان کو محفوظ جگہ پر لے جاؤں۔چنانچہ انہوں نے اس کو مار ڈالا۔اس کے بیٹے کو ان لوگوں نے مار ڈالا۔پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا داؤ کار گر نہ ہونے دیا اور ہمارا پیچھا کیا۔امیہ چونکہ بھاری بھر کم آدمی تھا اس لیے جلدی ادھر ادھر نہ ہو سکا۔آخر جب انہوں نے ہمیں پالیا تو میں نے اسے کہا بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا۔میں نے اپنے آپ کو اس پر ڈال دیا کہ اسے بچاؤں تو انہوں نے میرے نیچے سے اس کے بدن میں تلوار میں گھونپیں یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ان میں سے ایک کی تلوار سے میرے پاؤں پر بھی زخم آگیا۔تاریخ طبری میں اس کی مزید تفصیل یوں بیان ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ سکتے میں امیہ بن خلف میرا دوست تھا۔اس وقت میرا نام عبد عمر و تھا۔مکہ ہی میں جب میں اسلام لایا تو میر انام عبد الرحمن رکھا گیا۔اس کے بعد وہیں جب بھی وہ مجھ سے ملتا تو کہتا اے عبد عمرو! کیا تم اپنے باپ کے رکھے ہوئے نام سے اعراض کرتے ہو ؟ میں کہتا ہاں۔اس پر وہ کہتا مگر میں رحمن کو نہیں جانتا۔مناسب یہ ہے کہ کوئی اور نام تجویز کرو اس سے میں تمہیں مخاطب کروں گا کیونکہ اپنے سابق نام پر تم مجھے جواب نہیں دیتے اور جس بات سے میں ناواقف ہوں اس کے نام کے ساتھ میں تمہیں نہیں پکاروں گا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ جب وہ مجھے اے عبد عمرو! کہ کر پکار تا تو میں اسے جواب نہیں دیتا تھا۔میں نے کہا کہ اے ابو علی! اس کے متعلق تم جو چاہو مقرر کر دو۔یہ جو ہے یہ پر انا نام ہے تو میں اس کا جواب نہیں دوں گا۔اس نے کہا اچھا تمہارا نام عبدالہ بہتر ہو گا۔میں نے کہا اچھا۔چنانچہ اس کے بعد جب میں اور وہ ملتے تو وہ مجھے عبد اللہ کے نام سے پکار تا۔میں اسے جواب دیتا 381