اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 168
اصحاب بدر جلد 5 168 بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔حبشہ پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا لیکن جیسا کہ بعض مؤرخین نے بیان کیا ہے اور ان کے ضمن میں پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ خبر سن کے واپس آگئے تھے۔مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک افواہ اڑتی ہوئی ان کو پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکے میں بالکل امن ہو گیا ہے۔اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بلا سوچے سمجھے واپس آگئے۔جب یہ لوگ مکے کے پاس پہنچے تو پتا لگا کہ یہ خبر تو غلط تھی اور مہاجرین کو حبشہ سے واپس لانے کی کافروں کی ایک کوشش تھی۔اب ان سب کو بڑی مشکل کا سامنا تھا۔بہر حال کوئی اور رستہ نہیں تھا۔بعض تو رستہ میں سے واپس چلے گئے اور بعض نے مکے میں آکے کسی صاحب اثر کی پناہ لے لی لیکن وہ بھی زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتی تھی۔قریش کے جو مظالم تھے وہ بڑھتے چلے گئے اور مسلمانوں کے لیے مکے میں کوئی امن کی جگہ نہیں تھی تو اس پر پھر آنحضرت صلی ا ہم نے ارشاد فرمایا کہ ہجرت کرو اور پھر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پا کر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔اور ہجرت کا یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر حبشہ میں مہاجرین کی جو تعداد تھی وہ ایک سو تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں تھیں باقی مرد تھے۔تو اس طرح یہ دوسری ہجرت ہوئی۔بہر حال حضرت عبد اللہ بن مظعون کے متعلق یہی ہے کہ وہ پہلی ہجرت میں واپس آئے تھے لیکن دوبارہ واپس گئے یہ نہیں پتہ۔یا پھر یہاں سے انہوں نے مدینہ ہجرت کی۔61 ہجرت مدینہ بہر حال حضرت عبد اللہ بن مظعون جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آنحضرت صلی علیہ ہم نے ان کے اور سہل بن عبید اللہ انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔362 ایک روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مظعون کی حضرت قطبه بن عامر کے ساتھ آنحضرت صلی ہم نے مواخات قائم فرمائی تھی۔اپنے تینوں بھائیوں کے ساتھ بدر میں شامل 363 حضرت عبد اللہ بن مظعون اپنے تینوں بھائیوں حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت قدامہ بن مطعون اور حضرت سائب بن مظعون کے ہمراہ غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللی کام کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مظعون غزوہ بدر کے علاوہ غزوہ احد اور خندق اور دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مظعون نے حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں 30 ہجری میں بعمر ساٹھ سال وفات پائی تھی۔164