اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 149

اصحاب بدر جلد 5 149 تعلق نہ بھی ہو۔حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی چادر ڈالی ہوئی تھی اور آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔آپ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کو جارہے تھے جو بنو حارث بن خزرج کے محلے میں رہتے تھے۔یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔حضرت اسامہ کہتے تھے کہ چلتے چلتے آپ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا، جو منافقانہ اسلام لایا تھا وہ بھی ابھی نہیں تھا۔اس مجلس میں کچھ مشرک بھی بیٹھے تھے اور کچھ یہودی بھی تھے ، کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔سب ملے جلے لوگ تھے۔مجلس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے۔جب اس جانور کی گرد مجلس پر پڑی تو عبد اللہ بن اُبی نے اپنی چادر سے اپنی ناک ڈھانکی اور کہنے لگا غالباً حضور صلی یکم کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔رسول اللہ صلی لی نام سلام کہنے کے بعد ٹھہرے اور جانور سے اترے۔آپ نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول نے کہا اے شخص جو بات تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں۔ٹھیک ہے تم کہتے ہو یا یہ مطلب تھا کہ تمہارے نزدیک اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں یا کوئی اور اچھی بات نہیں تم کہہ سکتے ؟ کئی مطلب اس کے ہو سکتے ہیں۔بہر حال ترجمہ کرنے میں کس طرح کیا گیا ہے یہ تو اصل حوالے سے پتا لگ سکتا ہے۔بہر حال اس نے یہ کہا اگر یہ سچ ہے کہ تمہاری اس بات سے کوئی اچھی بات نہیں تو ہماری مجلس میں آکر اس سے تکلیف نہ دیا کرو، اپنے ٹھکانے پر ہی واپس جاؤ اور پھر جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کیا کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے یہ سن کر کہا کہ نہیں یار سول اللہ ! ہماری ان مجلسوں ہی میں آپ آکر ہمیں پڑھ کر سنایا کریں۔ہمیں تو یہ بات پسند ہے۔اس پر مسلمان اور مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے مگر نبی کریم صلی اللہ ہم نے ان کا جوش دبایا، دباتے رہے اور سمجھاتے رہے۔آخر وہ رک گئے۔پھر اس کے بعد نبی کریم صلی الی تم اپنے جانور پر سوار ہو کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس آئے۔نبی صلی علیم نے ان سے کہا کہ اے سعد ! کیا تم نے نہیں سنا جو ابو حباب نے آج مجھے کہا ہے ؟ آپ کی مراد عبد اللہ بن ابی سے تھی۔آپ نے فرمایا اس نے مجھے یوں یوں کہا ہے، ساری بات بتائی۔حضرت سعد بن عبادہ نے کہا یارسول اللہ ! آپ اس کو معاف کر دیں اور اس سے در گزر کیجیے۔اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ اب وہ حق یہاں لے آیا ہے جس کو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔اس بستی والوں نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس یعنی عبد اللہ بن اُبی کو سرداری کا تاج پہنا کر عمامہ اس کے سر پر باند ھیں۔جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے یہ منظور نہ کیا تو وہ حسد کی آگ میں جل گیا۔اس لیے اس نے وہ کچھ کہا جو آپ نے دیکھا۔یہ سن کر نبی صلی ا ہم نے اس سے در گزر