اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 147
اصحاب بدر جلد 5 147 حضرت عبد اللہ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے۔حضرت عائشہ نے حضرت عبد اللہ سے احادیث روایت کی ہیں۔حضرت عبد اللہ کو کاتب وحی ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔327 سونے کے دانت لگوانے کا ارشاد 328 ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عبد اللہ کا ناک کٹ گیا جس پر رسول اللہ صل اللی کم نے انہیں سونے کا ناک لگوانے کا ارشاد فرمایا جبکہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ غزوہ احد کے موقعے پر حضرت عبد اللہ کے دو دانت ٹوٹ گئے تھے جس پر رسول اللہ صلی الم نے انہیں سونے کے دانت لگوانے کا ارشاد فرمایا تھا۔راوی کہتے ہیں کہ دانت والی روایت زیادہ مشہور ہے اور درست ہے۔اور یہی درست لگتی ہے۔بعض دفعہ بعض بیان کرنے والے مبالغہ کر لیتے ہیں یا بعض دفعہ صحیح پیغام آگے نہیں سمجھ سکتے تو ناک کی بات تو نہیں دانتوں کی بات ہی صحیح لگتی ہے کہ دانت ٹوٹ گئے۔آنحضرت صلی للی یکم نے فرمایا کہ سونے کے دانت لگوا لو اور وہی لگوایا کرتے تھے، اس زمانے میں بھی کراون (crown) چڑھایا کرتے تھے۔غزوہ بدرالموعد اور مدینہ کے امیر کا تقرر غزوہ احد میں ابو سفیان نے مسلمانوں کو چیلنج دیا تھا کہ اگلے سال ہم دوبارہ بدر کے میدان میں ملیں گے۔اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تواریخ سے لے کے جو نتیجہ نکالا ہے وہ ہے کہ غزوۂ احد کے بعد میدان سے لوٹتے ہوئے ابو سفیان نے مسلمانوں کو یہ چیلنج دیا تھا کہ آئندہ سال بدر کے مقام پر ہماری تمہاری جنگ ہو گی اور آنحضرت صلی علیکم نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔اس لیے دوسرے سال یعنی 4 ہجری میں جب شوال کے مہینے کا آخر آیا تو آنحضرت صلی علیہ کم ڈیڑھ ہزار صحابہ کی جمعیت کو ساتھ لے کر مدینے سے نکلے اور آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی بن سلول کو امیر مقرر فرمایا۔حضرت عبد اللہ کو مدینے کا امیر مقرر فرمایا جب آپ لشکر لے کر نکلے۔دوسری طرف ابوسفیان بن حرب بھی دوہزار قریش کے لشکر کے ساتھ مکے سے نکلا مگر باوجود احد کی فتح اور اتنی بڑی جمعیت کے ساتھ ہونے کے اس کا دل خائف تھا اور اسلام کی تباہی کے درپے ہونے کے باوجود وہ چاہتا تھا کہ جب تک بہت زیادہ جمعیت کا انتظام نہ ہو جائے وہ مسلمانوں کے سامنے نہ ہو۔چنانچہ ابھی وہ مکہ میں ہی تھا کہ اس نے نعیم نامی ایک کو جو ایک غیر جانب دار قبیلے سے تعلق رکھتا تھا مدینہ کی طرف روانہ کر دیا اور اسے تاکید کی کہ جس طرح بھی ہو مسلمانوں کو ڈرادھمکا کر اور جھوٹ سچ باتیں بنا کر جنگ سے نکلنے سے باز رکھو۔چنانچہ یہ شخص مدینہ میں آیا اور قریش کی تیاری اور طاقت اور ان کے جوش و خروش کے جھوٹے قصے سنا کر اس نے مدینہ میں شخص