اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 95
اصحاب بدر جلد 5 95 آنحضرت علی ام ام حرام کے گھر اس لیے جاتے تھے کہ آپ کا ایک محرم رشتہ تھا۔یہ نہیں کہ ان کی بیوی تھیں ان کے گھر چلے گئے۔اس بارے میں لکھا ہے کہ ام حرام ملحان ابن خالد کی بیٹی ہیں۔قبیلہ بنی نجار سے تعلق رکھتی تھیں۔انس کی خالہ تھیں اور ان کی والدہ ام سلیم کی بہن ہیں یہ دونوں یعنی اتم حرام اور اتم سلیم دودھ کے رشتے سے یا کسی نسبتی قرابت سے آنحضرت صلی الہ وسلم کی خالہ تھیں۔220 امام نووی نے لکھا ہے کہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ ام حرام آنحضرت علی یم کی محرم تھیں۔اس لیے آپ صلی اہم بے تکلفی کے ساتھ دوپہر کو بعض دفعہ ان کے ہاں جا کر آرام فرمایا کرتے تھے۔لیکن کیفیت محرمیت جو ہے اس میں اختلاف ہے، محرم تو تھیں یہ تو سب مانتے ہیں لیکن کس قسم ، کسی رشتے داری کی وجہ سے محرم تھیں اس میں بعض نے اختلاف کیا ہے۔221 بہر حال کسی نے کسی تعلق سے محرم کہا ہے اور کسی نے کسی تعلق سے۔حضرت ام حرام جب اسلام لائیں اور آنحضرت صلی علی نام کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضرت عثمان ذوالنورین کے زمانے میں انہوں نے اپنے خاوند عبادہ بن صامت کے ساتھ جو انصار میں سے تھے اور بڑے جلیل القدر صحابی تھے جن کا ذکر ہو رہا ہے ان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور سر زمین روم میں پہنچ کر مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئیں۔آنحضرت صلی للی کم نے جو ایک خواب رویا دیکھی تھی اس کے مطابق پھر ان کی شہادت بھی ہوئی۔بخاری کی شرح عمدۃ القاری اور بخاری کی ایک اور شرح ارشاد الساری میں لکھا ہے کہ حضرت ام حرام کی وفات 27 تا 28 ہجری میں ہوئی۔بعض کے نزدیک ان کی وفات امیر معاویہ کے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور سیرت نگاروں نے اسی کو بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں یہ بحری جنگ ہوئی تھی جس میں حضرت ام حرام کی وفات ہوئی تھی۔معاویہ کے زمانے سے مراد حضرت معاویہ کا زمانہ حکومت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ وقت ہے جب حضرت معاویہ نے روم کے خلاف ایک بحری جنگ لڑی تھی اور اس جنگ میں حضرت ام حرام بھی اپنے شوہر حضرت عبادہ بین صامت کے ساتھ شریک ہوئی تھیں اور اسی بحری جنگ سے واپسی پر حضرت ام حرام کی وفات ہوئی تھی اور یہ واقعہ حضرت عثمان کے دورِ خلافت کا ہے۔222 جنادہ بن ابو امیہ سے مروی ہے کہ جب ہم حضرت عبادہ کے پاس گئے تو وہ بیمار تھے۔ہم لوگوں نے کہا کہ اللہ آپ کو صحت دے۔آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی کریم صلی علیم سے سنی ہو تا کہ اللہ آپ کو نفع پہنچائے۔آپ نے کہا کہ نبی صلی علیہم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی۔آپ نے جن باتوں کی بیعت ہم سے لی وہ باتیں یہ تھیں کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر کہ ہم اپنی خوشی اور اپنے غم اور اپنی تنگ دستی اور خوش حالی اور اپنے اوپر ترجیح دیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور حکومت کے لیے حاکموں سے جھگڑا نہیں کریں گے۔حکومت کے لیے حاکموں سے جھگڑا نہیں