اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 94
اصحاب بدر جلد 5 94 والسلام نے جو بیان کیا ہے۔اس میں بنیادی چیز جو ضروری ہے ، یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود جو ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا، ان کے اندر رہنا ہے۔بس یہی ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور پھر اطاعت کے دائرے کے اندر رہنا چاہیے۔عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں ولید سے ملا جو حضرت عبادہ بن صامت صحابی رسول صلی ا یکم کے بیٹے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے والد یعنی حضرت عبادہ کی موت کے وقت وصیت کیا تھی تو انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے یعنی حضرت عبادہ نے مجھے بلایا اور کہا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جان لے کہ تو ہر گز اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کر سکتا جب تک کہ تو اللہ پر ایمان نہ لائے۔ایمان کامل ہونا چاہیے۔اور ہر قسم کے خیر وشر کی تقدیر پر بھی ایمان نہ لائے۔پس اگر تو اس کے علاوہ کسی اعتقاد پر مراتو تو آگ میں داخل ہو گا۔218 حضرت ام حرام بنت ملحان اور نبی اکرم مالی ان کا ایک کشفی نظارہ اور اس کا پورا ہونا حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نام حضرت ام حرام بنت ملحان کے گھر تشریف لایا کرتے تھے جو حضرت عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں۔وہ آپ صلی علی کیم کو کھانا کھلاتیں۔ایک بار رسول اللہ صلی علیکم حضرت ام حرام کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کا سر دیکھنے لگیں، جھسنے لگیں۔رسول اللہ صلی الی و کم سو گئے۔اس کے بعد اسی حالت میں کہ سوئے ہوئے تھے آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔حضرت ام حرام کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔وہ اس سمندر میں سوار ہیں گویا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں یا فرمایا کہ ان بادشاہوں کی طرح ہیں جو تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں۔بیان کرنے والے نے شک کیا کہ کون سا لفظ فرمایا تھا۔بہر حال کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ یارسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ام حرام کے لیے دعا کی۔پھر آپ صلی علیم نے اپنا سر رکھا اور سو گئے۔پھر اس کے بعد آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔کہتی ہیں میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرارہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلے ہوئے تھے۔پھر آپ نے پہلی دفعہ والی جو بات تھی، جو پہلے بیان ہو چکی ہے وہ دہرائی۔کہتی تھیں میں نے کہا یارسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے فرمایا کہ تو تو پہلے ہی ان لوگوں میں شریک ہو چکی ہے۔چنانچہ حضرت ام حرائم معاویہ بن ابو سفیان کے زمانے میں سمندری سفر میں شامل ہوئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنی سواری سے گر کر فوت ہو گئیں۔219