اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 93
اصحاب بدر جلد 5 93 حضرت معاویہؓ نے ایک دفعہ حضرت عثمان غنی کو خط لکھا کہ حضرت عبادہ بن صامت کی وجہ سے شام اور اہل شام میرے خلاف شورش برپا کر رہے ہیں۔اب یا تو آپ عُبادہ کو پاس بلا لیں یا پھر ان کے اور شام کے درمیان سے میں ہٹ جاتا ہوں یعنی میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔حضرت عثمان نے لکھا کہ آپ حضرت عُبادہ کو سوار کروا کے مدینہ منورہ میں ان کے گھر کی طرف روانہ کر دیں۔چنانچہ حضرت معاویہ نے انہیں روانہ کر دیا اور وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔حضرت عبادہ حضرت عثمان کے پاس ان کے گھر چلے گئے جہاں سوائے ایک آدمی کے اگلے پچھلوں میں سے کوئی نہ تھا یعنی کہ جس نے صحابہ کو پایا تھا۔انہوں نے حضرت عثمان کو مکان کے کونے میں بیٹھے ہوئے پایا۔پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت عثمان نے فرمایا کہ اے عبادہ بن صامت ! آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے۔تو حضرت عُبادہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی علی مہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم نا پسند کرتے ہو گے اور ایسے کاموں کو ناپسند کروائیں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہوگے۔سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت نہیں۔پس تم اپنے رب کی حدود سے تجاوز نہ کرنا۔216 بعض مسائل ہیں جن میں اختلاف ہو سکتا ہے۔حضرت امیر معاویہ اور عبادہ بن صامت میں بھی اس طرح کے بعض ایسے مسائل پر اختلاف رہتا تھا۔گذشتہ خطبے میں بھی یہ ذکر ہوا تھا کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا اور کیونکہ حضرت عُبادہ بن صامت اولین صحابہ میں سے تھے اور آنحضرت صلی اللہ کم سے ہر اور راست انہوں نے یہ مسائل سنے ہوئے تھے اس لیے بڑے تحدی سے یہ ان کے اوپر عمل کرنے اور کروانے والے ہوتے تھے اور یہی کہا کرتے تھے کہ یہی صحیح ہیں۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب امیر معاویہ سے یہ اختلاف ہوا تو حضرت عمرؓ نے امیر معاویہ کو کہہ دیا کہ ان سے تم نے کوئی پوچھ کچھ نہیں کرنی۔جو مسائل یہ بیان کرتے ہیں ان کو کرنے دیا کرو اور جب یہ مدینہ آئے تھے تو ان کو واپس بھیج دیا۔217 لیکن حضرت عثمان کے زمانے میں دوبارہ یہ بات ہوئی تو حضرت عثمان نے ان کو ان حالات کی وجہ سے واپس بلا لیا۔بہر حال حضرت عبادہ کا ایک مقام تھا۔وہ بعض باتوں کی تشریح کر سکتے تھے۔انہوں نے سمجھی ہوئی تھیں۔آنحضرت صلی اللی علم سے براہ راست سنی تھیں اور اس وجہ سے وہ اختلاف کرتے تھے اور بعض معاملات میں بتا بھی دیا کرتے تھے۔مثلاً لین دین کا معاملہ ہے، بارٹر (barter) کا معاملہ ہے، تجارت کا معاملہ ہے۔یہ وسیع مضمون ہے یہاں اس وقت بیان نہیں ہو سکتا، اس میں بھی ان کا اختلاف امیر معاویہ سے ہوا تھا۔تو بہر حال ان کے پاس دلائل تھے اور انہوں نے اس کے مطابق اپنی تشریح کی۔امیر معاویہ نے اپنی تشریح کی لیکن ہر ایک کا یہ کام نہیں ہے کہ اس طرح اختلاف کرتا پھرے جب تک قرآن اور حدیث کی واضح نص موجود نہ ہو۔اور اس زمانے میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ