اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 562
تاب بدر جلد 4 562 1274" معاہدہ کی نگہداشت ملحوظ ر کھی ہے۔گو یہاں تو دھو کہ ہوا اور وہ نتائج نہیں نکلے لیکن مومن کو ہمیشہ حسن ظن رکھنا چاہئے اور جو معاہدے اللہ تعالیٰ کے نام پر کئے جانے کی کوشش کی جائے تو ساری چیزیں دیکھ کر اسے کر لینا چاہئے یہی مومنانہ شان ہے۔لیکن بہر حال دوبارہ دھو کہ نہیں کھانا چاہئے۔وہاں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی یی کم کو بتا بھی دیا تھا۔اسی کو بیان کرتے ہوئے حضرت سہل نے یہ کہا کہ اگر معاہدہ ہو رہا ہے، جنگ بندی ہو رہی ہے تو ہمیں بھی صلح حدیبیہ والے واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے صلح کر لینی چاہئے۔تم مکہ کی طرف میرے پیامبر ہو حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی یکم نے مجھ سے مخاطب ہو کیر فرمایا کہ تم مکہ کی طرف میرے پیامبر ہو۔پس تم جاکر انہیں میر اسلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ رسول اللہ صلی علیکم تمہیں تین باتوں کا حکم دیتے ہیں۔اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ۔باپ دادا کی قسمیں کھانا منع ہے۔گناہ ہے۔جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ رخ کر کے نہ بیٹھو۔شمالاً جنوبا بیٹھنا چاہئے۔اسی طرح تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ ہڈی اور گوبر سے استنجا نہ کرو۔1275 اس میں تبھی بڑی حکمت ہے کئی قسم کے بیکٹریا ہوتے ہیں جس سے انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔آجکل تو ٹشو اور پانی کا رواج ہے لیکن اس زمانے میں جنگلوں میں پتھر اور ہڈیاں وغیرہ استعمال کی جاتی تھیں جس سے آپ نے منع فرمایا۔جیسا کہ پہلے حضرت علی کے ضمن میں ذکر ہو چکا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری تلوار نے آج کمال کر دیا تو حضرت عاصم بن ثابت اور سہل بن حنیف کے بارے میں بھی آنحضرت صلی الیہ کم نے یہی فرمایا تھا کہ ان کی تلواروں نے بھی آج کمال کیا ہے۔جب حضرت علی کی بیعت کی گئی تب بھی سہل جو تھے وہ ان کے ساتھ تھے۔جب حضرت علی بھیرہ کے لئے روانہ ہوئے تو حضرت سہل کو اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔آپ حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شامل ہوئے۔حضرت علی نے آپ کو بلا د فارس کا والی مقرر فرمایا لیکن وہاں کے لوگوں نے آپ کو نکال دیا جس پر حضرت علی نے حضرت زیاد کو بھیجا جن سے اہل فارس راضی ہوئے اور مصالحت کی اور خراج ادا کیا۔نکال اس لئے نہیں دیا تھا کہ نعوذ باللہ آپ کوئی غلط کام رہے تھے بلکہ مختلف طبائع ہوتی ہیں۔ہر ایک انسان کی مختلف خصوصیات ہوتی ہیں اس لحاظ سے حضرت زیاد اہل فارس کو بہتر رنگ میں قابو کر سکے اور پھر ان سے مصالحت بھی ہو گئی اور خراج و غیرہ بھی وصول کیا۔1276 وفات اور نماز جنازہ پر حضرت علی نے چھ تکبیرات کہیں کہ بدری صحابی تھے حضرت سہل بن حنیف کی وفات جنگ صفین سے واپسی پر کوفہ میں 38 ہجری میں ہوئی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت علی نے پڑھائی۔